پینوراما کی تازہ تحقیق کے مطابق، پولیس افسران نے عمر بنگٹ کے قتل کے مقدمے میں کلیدی گواہ کی ساکھ کو کمزور کرنے کے لیے سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کو نظرانداز کیا، جس سے ملزم پر جھوٹا الزام عائد ہوا۔ نئی شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پولیس نے ابتدائی طور پر دستیاب ویڈیو مواد کو مقدمے کے حق میں استعمال نہیں کیا۔
پینوراما کی رپورٹ
انگریزی میڈیا ہاؤس پینوراما نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ پولیس کے کچھ اہلکار اس بات سے آگاہ تھے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم کی غیر موجودگی واضح ہے۔ تاہم، اس ریکارڈنگ کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا اور اس کی بجائے ایک کمزور گواہ کی گواہی پر انحصار کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، اس گواہ کی بیان میں متعدد تضادات پائے گئے جنہیں پولیس نے نظرانداز کیا۔
سی سی ٹی وی کی اہمیت
قضے کے دوران حاصل شدہ سی سی ٹی وی ویڈیوز نے واضح طور پر دکھایا کہ واقعے کے وقت ملزم کی موجودگی کا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔ اس کے برعکس، گواہ کی بیان میں بیان کردہ واقعات اور ویڈیو کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ اس فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے، قانونی ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عدالتیں ویڈیو شواہد کو لازمی طور پر زیر غور لائیں۔
قانونی اثرات
نئی شواہد کی روشنی میں، عدالتی نظام پر سخت تنقید کی جا رہی ہے کہ کس طرح پولیس کی جانب سے شواہد کی جانچ پڑتال میں کمی نے ایک بے گناہ شخص کی سزائے موت یا طویل قید کا باعث بن سکتی ہے۔ قانونی ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے پولیس کی تربیت اور شواہد کی شفاف جانچ پڑتال کے نظام کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ملزم کی جانب سے اپیل کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔

