جنوری کے مہینے میں صارفین کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر 2.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو ماہرین کی توقعات سے کم ہے۔ یہ اعداد و شمار ملک میں مہنگائی کی صورتحال کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
تفصیلات
کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے مطابق، جنوری میں سالانہ مہنگائی کی شرح 2.4 فیصد رہی۔ ڈاؤ جونز کے اتفاق رائے کے مطابق، معاشی ماہرین نے جنوری میں سی پی آئی میں سالانہ بنیادوں پر 2.5 فیصد اضافے کی توقع ظاہر کی تھی۔ تاہم، جاری کردہ اعداد و شمار نے یہ ظاہر کیا کہ مہنگائی کی شرح اندازوں سے 0.1 فیصد کم رہی۔
مہنگائی کی شرح میں توقع سے کم اضافہ معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال صارفین کی قوت خرید پر دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے اور مرکزی بینک کی مستقبل کی مانیٹری پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کمی عالمی منڈی میں اشیاء کی قیمتوں میں استحکام اور حکومتی اقدامات کا نتیجہ ہو سکتی ہے، جس سے عام صارفین کو کچھ حد تک ریلیف ملنے کی امید ہے۔

