برطانیہ کی سول سروس کے سربراہ سر کرس وورمالڈ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ کابینہ آفس کے مطابق یہ اقدام باہمی رضامندی سے کیا گیا ہے، تاہم یہ اقدام ان کی کارکردگی کے بارے میں مہینوں کی منفی میڈیا رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے۔
تفصیلات
سر کرس وورمالڈ، جو کہ برطانوی حکومت کے سب سے سینئر بیوروکریٹ تھے، نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ کابینہ آفس نے اس فیصلے کو "باہمی رضامندی” کا نتیجہ قرار دیا ہے، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی قیادت پر اٹھنے والے سوالات اور میڈیا میں آنے والی تنقیدی خبروں نے ان پر دباؤ بڑھا دیا تھا۔
گزشتہ چند مہینوں کے دوران، سر کرس وورمالڈ کی کارکردگی اور ان کے فیصلوں پر مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ مختلف اخبارات اور میڈیا آؤٹ لیٹس نے ان کی سربراہی میں سول سروس کے کام کرنے کے طریقے پر تنقید کی تھی۔ ان رپورٹس میں خاص طور پر انتظامی معاملات اور حکومتی پالیسیوں کے نفاذ کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔
اس پیش رفت کے بعد، اب یہ دیکھنا ہوگا کہ برطانوی سول سروس کی قیادت کون سنبھالتا ہے اور نئی قیادت کے تحت سول سروس کی کارکردگی میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔

