واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایک تاریخی فیصلے کے تحت گرین ہاؤس گیسز کو عوامی صحت کے لیے خطرہ قرار دینے والے ایک اہم قانون کو منسوخ کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اس اقدام کو امریکی تاریخ کی سب سے بڑی ڈی ریگولیشن قرار دیا ہے، جبکہ ماحولیاتی کارکنان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے نتائج امریکی عوام کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
قانون کی منسوخی کی وجوہات اور اثرات
اس قانون کے تحت، جو کہ اوباما انتظامیہ کے دور میں نافذ کیا گیا تھا، گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کو محدود کرنے کے لیے سخت ضوابط عائد کیے گئے تھے جنہیں ماحولیاتی آلودگی اور اس کے نتیجے میں انسانی صحت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے بچاؤ کے لیے ضروری سمجھا جاتا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ ضوابط معیشت پر بوجھ تھے اور ان کی منسوخی سے صنعتی شعبوں کو ریلیف ملے گا۔
تاہم، ماحولیاتی ماہرین اور کارکنان اس فیصلے پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں اضافے سے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مزید شدت اختیار کریں گے، جس کے نتیجے میں شدید موسمی واقعات، سمندر کی سطح میں اضافہ، اور صحت کے مسائل میں اضافہ ہوگا۔ ان کے مطابق، یہ فیصلہ نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے بلکہ مستقبل میں امریکی شہریوں کو صحت اور معیشت کے حوالے سے بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
ماحولیاتی کارکنان کا ردعمل
ماحولیاتی تنظیموں نے اس فیصلے کو "غیر ذمہ دارانہ” اور "خطرناک” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سائنس پر مبنی حقائق کو نظر انداز کرتا ہے اور عوام کی صحت اور مستقبل کو داؤ پر لگاتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرے۔

