سابق برطانوی کابینہ وزیر لارڈ مینڈلسن نے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ اپنے تعلقات کی وجہ سے لیبر پارٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے روابط پارٹی کے لیے مزید شرمندگی کا باعث بنیں۔
استعفیٰ کی تفصیلات اور پس منظر
لارڈ مینڈلسن، جو کہ برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا (ہاؤس آف لارڈز) کے ایک ممتاز رکن ہیں، نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وہ لیبر پارٹی کو جیفری ایپسٹین کے ساتھ اپنے تعلقات پر کسی بھی قسم کی "مزید شرمندگی” سے بچانے کے لیے پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ ان کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں عدالتی دستاویزات کا ایک سلسلہ جاری ہوا ہے، جن میں جیفری ایپسٹین کے وسیع روابط اور مالی لین دین کی تفصیلات موجود ہیں۔
ان دستاویزات میں بظاہر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جیفری ایپسٹین نے ایک سابق امریکی سفیر کو 75,000 ڈالر کی رقم بھیجی تھی۔ اگرچہ لارڈ مینڈلسن کا نام براہ راست مالی لین دین میں شامل نہیں ہے، لیکن ان کے ایپسٹین کے ساتھ ماضی کے روابط کی وجہ سے لیبر پارٹی پر دباؤ بڑھ رہا تھا۔
سابق وزیر نے کہا کہ وہ اپنے ماضی کے تعلقات کی وجہ سے لیبر پارٹی کو کسی بھی قسم کی مشکل یا سیاسی نقصان سے دوچار نہیں کرنا چاہتے، اسی لیے انہوں نے فوری طور پر پارٹی کی رکنیت سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا۔

