ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے چین کو بھیجے جانے والے مصنوعی ذہانت (AI) کے انتہائی طاقتور چپس پر 25 فیصد اضافی درآمدی محصول (ٹیرف) عائد کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ خاص طور پر این ویڈیا (Nvidia) کے ایچ 200 اے آئی پروسیسر اور اے ایم ڈی (AMD) کے اسی طرح کے سیمی کنڈکٹرز کو نشانہ بناتا ہے، جس کا مقصد چین کی ٹیکنالوجی کی ترقی کو محدود کرنا ہے۔
ٹیرف کی تفصیلات اور نفاذ
امریکی انتظامیہ نے ان جدید سیمی کنڈکٹرز کی فروخت میں 25 فیصد کٹوتی کو باقاعدہ شکل دی ہے جو چین کو برآمد کیے جاتے ہیں۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اس 25 فیصد ٹیرف کو نافذ کرنے کا اعلان کیا، جس کا اطلاق این ویڈیا کے ایچ 200 اے آئی پروسیسر اور اے ایم ڈی کے مماثل سیمی کنڈکٹرز پر ہوگا۔
یہ ٹیرف ان امریکی کمپنیوں کے لیے چین میں اپنے انتہائی جدید مصنوعات کی فروخت کو مزید مہنگا اور مشکل بنا دے گا۔ ایچ 200 اے آئی چپس کو دنیا کے سب سے طاقتور اے آئی پروسیسرز میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ بڑے لینگویج ماڈلز اور جدید ترین ڈیٹا سینٹرز کو چلانے کے لیے ناگزیر ہیں۔
ٹیکنالوجی کی جنگ میں نیا موڑ
ماہرین کے مطابق، یہ اقدام امریکہ اور چین کے درمیان جاری ٹیکنالوجی کی جنگ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ واشنگٹن کا مقصد چین کو ان چپس تک رسائی سے روکنا ہے جو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے ترقی اور ممکنہ طور پر فوجی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے ضروری ہیں۔
امریکہ طویل عرصے سے یہ کوشش کر رہا ہے کہ چین کو ایسے سیمی کنڈکٹرز تک رسائی حاصل نہ ہو جو اس کی فوجی اور نگرانی کی صلاحیتوں کو بڑھا سکتے ہیں۔ یہ نئی پابندیاں امریکی کمپنیوں کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ چین کے لیے تیار کردہ چپس کی صلاحیت کو محدود رکھیں یا پھر بھاری محصولات ادا کریں۔

