سولر نیٹ میٹرنگ کے معاملے پر پاور ڈویژن کی نیپرا لائسنسنگ اور حکومتی احکامات سے متعلق وضاحت آگئی۔
ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق سولر نیٹ میٹرنگ کیلئے نیپرا لائسنس کو وفاق سے منسوب کرنا غلط ہے، نیپرا لائسنس حصول کیلئے ریگولیشنز موجود ہیں جن کا تعلق براہِ راست ریگولیٹر سے ہے اور تمام بجلی تقسیم کار کمپنیاں ان ریگولیشنز پر عمل درآمد کی پابند ہوتی ہیں۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ وفاق اور وزارت توانائی یا پاور ڈویژن کی جانب سے لائسنس شرط سے متعلق وضاحت ضروری ہے وفاقی حکومت کے احکامات کو لائسنسنگ کے عمل سے منسوب کرنا حقائق کے منافی ہے۔
پنجاب
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے شہریوں کی سہولت کے لیے مفت سولر پینل اسکیم کی آخری تاریخ میں توسیع کر دی ہے اور اب شہری اس منصوبے سے فائدہ اٹھانے کے لیے رواں برس دسمبر تک درخواستیں دے سکتے ہیں۔
سولر پینل اسکیم کی اہلیت کا معیار
مندرجہ ذیل زمروں کے تحت 200 یونٹس تک ماہانہ استعمال کرنے والے گھریلو صارفین اہل ہیں:
50 یونٹس تک (لائف لائن)
51-100 یونٹس (لائف لائن)
0-100 یونٹس (محفوظ)
101-200 یونٹس (غیر محفوظ)
2 کلو واٹ تک منظوری کا بوجھ رکھنے والا صارف اہل ہوگا۔
سی ایم سولر پینل اسکیم کے لیے شہری خود کو سرکاری پورٹل کے ذریعے رجسٹر کر سکتے ہیں: cmsolarscheme.punjab.gov.pk۔
اس کے علاوہ شہری خود کو اپنے بجلی بل کے ریفرنس نمبر اور قومی شناختی کارڈ نمبر 8800 پر بھیج کر رجسٹر کر سکتے ہیں۔
سندھ
پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے صوبے کے 2 لاکھ 75 ہزار مستحق خاندانوں کو مفت سولر سسٹم فراہم کرنے کے فیز ٹو کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔
افتتاحی تقریب قمبر شہداد کوٹ میں منعقد ہوئی، جہاں نثار کھوڑو نے مستحق خاندانوں میں سولر کٹس تقسیم کیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ ہر گھر کو شمسی توانائی سے روشن کرنے کا ویژن پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت سندھ بھر میں مجموعی طور پر 2 لاکھ 75 ہزار گھرانوں کو سولر پینلز دیے جائیں گے، صرف ضلع قمبر شہداد کوٹ میں 10 ہزار سولر کٹس تقسیم کی جائیں گی۔

