امریکی بحریہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی یقینی بنائی جار ہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے پاکستانی وقت کے مطابق آج 7بجے ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔
ایک امریکی اہلکار نے الجزیرہ کو بتایا کہ فوج بحری ناکہ بندی کو نافذ کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے لیکن اس نے خلاف ورزیوں کے لیے سرگرمیوں کے اصول طے نہیں کیے ہیں۔
اہلکار نے کہا کہ ٹرمپ کے فیصلوں کے مطابق جب تک ضرورت ہو اس اقدام کو نافذ کرنے کے لیے امریکی افواج اور آلات کافی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑے دفاعی اقدام کا اعلان کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کا فیصلہ کیا تھا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران نے عالمی برادری سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا نہیں کیا، لہٰذا آج سے آبنائے ہرمز بند کر دی جائے گی تاکہ ایران اپنا تیل فروخت نہ کر سکے۔
امریکی صدر نے خبردار کیا کہ جو بھی بحری جہاز ایران کو غیر قانونی طور پر ٹول ادا کرے گا، اسے کھلے سمندر میں ‘محفوظ راستہ’ فراہم نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیاروں کے حصول کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اب انہیں اس بات کی پرواہ نہیں کہ ایران مذاکرات کی میز پر واپس آتا ہے یا نہیں۔
ناکہ بندی کے اعلان کے ساتھ ہی عالمی سمندری حدود میں صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق، تیل بردار جہازوں نے آبنائے ہرمز کے متاثرہ حصوں سے نکلنا شروع کر دیا ہے اور عراق سے تیل لے کر روانہ ہونے والا مالٹا کا ایک بڑا بحری جہاز امریکی اعلان کے بعد واپس مڑ گیا ہے اور اس وقت خلیج عمان میں لنگر انداز ہے۔

