برطانیہ کی تاریخ کی سب سے بڑی اور سنسنی خیز ڈکیتی ‘سیکیوریٹاس ریڈ’ کو دو دہائیاں گزرنے کے بعد کینٹ پولیس کے اعلیٰ حکام نے ایک اہم انکشاف کیا ہے۔ پولیس کا ماننا ہے کہ اس واردات میں لوٹی گئی کروڑوں پاؤنڈز کی رقم، جو تاحال برآمد نہیں ہو سکی، اب غالباً زمین میں دبے رہنے یا نمی کی وجہ سے گل سڑ کر ضائع ہو چکی ہوگی۔
تاریخی ڈکیتی اور غائب شدہ رقم
سن 2006 میں ٹن برج، کینٹ میں واقع سیکیوریٹاس کیش ڈپو پر ہونے والی اس مسلح ڈکیتی میں ڈاکوؤں نے تقریباً 53 ملین پاؤنڈز کی خطیر رقم لوٹی تھی۔ اگرچہ پولیس نے برسوں کی محنت کے بعد اس رقم کا کچھ حصہ برآمد کر لیا تھا اور کئی ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچایا، لیکن تقریباً 32 ملین پاؤنڈز کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ کینٹ کے اعلیٰ پولیس افسر نے اس کیس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی مقدار میں نقدی کو چھپانا اور اسے طویل عرصے تک محفوظ رکھنا تقریباً ناممکن ہے۔
منظم جرم اور مینیجر کا اغوا
یہ محض ایک عام ڈکیتی نہیں تھی بلکہ ایک انتہائی منظم اور خوفناک کارروائی تھی۔ ڈاکوؤں نے پولیس اہلکاروں کا روپ دھار کر ڈپو کے مینیجر اور ان کے اہل خانہ کو اغوا کیا اور انہیں یرغمال بنا کر ڈپو تک رسائی حاصل کی۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ اس جرم کی منصوبہ بندی اتنی مہارت سے کی گئی تھی کہ اس نے برطانوی سیکیورٹی نظام کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ تاہم، پولیس کا خیال ہے کہ لوٹی گئی رقم کا بڑا حصہ شاید کبھی منظرِ عام پر نہ آ سکے کیونکہ اسے ٹھکانے لگانے کے لیے ڈاکوؤں نے اسے ایسی جگہوں پر چھپایا ہوگا جہاں وہ اب ناقابلِ استعمال ہو چکی ہوگی۔
تفتیش کا عمل اور مستقبل
بیس سال گزرنے کے باوجود کینٹ پولیس نے اس کیس کی فائلیں بند نہیں کی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ رقم کی واپسی کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں، لیکن مفرور ملزمان اور اس جرم سے جڑے دیگر کرداروں کی تلاش اب بھی جاری ہے۔ پولیس کے مطابق، اس کیس نے برطانوی پولیسنگ اور بینکنگ سیکیورٹی کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن غائب شدہ لاکھوں پاؤنڈز آج بھی ایک معمہ بنے ہوئے ہیں۔

