سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی اہم ترین معاشی پالیسی ‘ٹیرف’ کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ججز کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اس عدالتی فیصلے کو اپنی اقتصادی حکمت عملی کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیتے ہوئے ججز کے رویے پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
عدالتی فیصلہ اور ٹرمپ کا موقف
امریکی سپریم کورٹ کے چھ ججز نے ٹیرف کے خلاف فیصلہ سنایا، جس کے نتیجے میں ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کو قانونی محاذ پر بڑی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جن ججز نے اس پالیسی کے خلاف ووٹ دیا ہے، انہیں اپنے اس اقدام پر "مکمل طور پر شرمندہ” ہونا چاہیے۔ سابق صدر کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ ملکی معیشت کے مفاد میں نہیں ہے۔
معاشی پالیسی کو پہنچنے والا دھچکا
واضح رہے کہ ٹیرف کا نفاذ ڈونلڈ ٹرمپ کی معاشی مہم کا ایک بنیادی ستون رہا ہے، جس کا مقصد غیر ملکی درآمدات پر ٹیکس عائد کر کے مقامی صنعتوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ تاہم، عدالت کے اس حالیہ فیصلے نے ان کی اس دیرینہ کوشش کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، سپریم کورٹ کا یہ اقدام ٹرمپ کی مستقبل کی تجارتی حکمت عملیوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے، جسے سابق صدر نے عدلیہ کی جانب سے ایک غیر منصفانہ رویہ قرار دیا ہے۔

