اتوار, مارچ 8, 2026
الرئيسيةٹرمپ کا ایران پر محدود فوجی حملے پر غور، عالمی تیل کی...

ٹرمپ کا ایران پر محدود فوجی حملے پر غور، عالمی تیل کی منڈیوں میں تشویش کی لہر

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف محدود پیمانے پر فوجی کارروائی کرنے کے حوالے سے سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، امریکی انتظامیہ ایران کی حالیہ سرگرمیوں کے جواب میں مختلف فوجی آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے، جس کا مقصد خطے میں تہران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنا اور اسے سخت پیغام دینا ہے۔

عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی پر اثرات

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی اس کشیدگی نے عالمی تیل کی منڈیوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ معاشی ماہرین اور سرمایہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کا مسلح تصادم عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اس وقت تیل کی منڈیوں میں سب سے بڑا خوف یہ پایا جاتا ہے کہ اس تنازع کی صورت میں خام تیل کی عالمی رسد بری طرح متاثر ہوگی، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت اور ممکنہ بندش

تجزیہ کاروں کے مطابق، اس ممکنہ جنگ کا سب سے حساس پہلو "آبنائے ہرمز” سے تیل کی ترسیل میں طویل مدتی رکاوٹ ہے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ چھڑتی ہے اور یہ گزرگاہ بند ہو جاتی ہے، تو اس سے نہ صرف توانائی کا عالمی بحران پیدا ہوگا بلکہ عالمی سپلائی چین بھی مفلوج ہو کر رہ جائے گی۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں