امریکہ کا تجارتی خسارہ 2025 میں 901 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ محصولات (ٹیرف) کے باوجود تجارتی عدم توازن کو کم کرنے میں ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اعداد و شمار دسمبر کے مہینے میں تجارتی خسارے میں نمایاں اضافے کے بعد سامنے آئے ہیں، جس نے سال بھر کے مجموعی عدم توازن کو تقریباً برقرار رکھا۔
تفصیلات
تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، دسمبر میں امریکی تجارتی خسارے میں غیر متوقع طور پر اضافہ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں سال 2025 کا مجموعی تجارتی خسارہ 901 ارب ڈالر پر بند ہوا۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے درآمدات پر لگائے گئے بھاری ٹیرف، جن کا مقصد امریکی صنعتوں کو تحفظ فراہم کرنا اور تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
سال بھر کے دوران، اگرچہ ماہانہ بنیادوں پر تجارتی خسارے میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، لیکن مجموعی طور پر عدم توازن میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ دسمبر میں ہونے والے اضافے نے سال کے اختتام پر خسارے کو ایک بلند سطح پر برقرار رکھا، جو امریکی معیشت کے لیے ایک مستقل چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سپلائی چینز اور صارفین کی طلب میں تبدیلیوں نے بھی اس عدم توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

