امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ بحر ہند میں واقع اسٹریٹجک اہمیت کے حامل جزیرے ڈیگو گارشیا کو کسی کے حوالے نہ کرے۔ صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صرف ایک دن قبل ہی امریکہ نے چاگوس جزائر کے حوالے سے برطانیہ کے موقف کی باضابطہ طور پر حمایت کا اعلان کیا تھا۔ صدر کے اس تازہ تبصرے کو چاگوس ڈیل پر ایک نیا اور غیر متوقع حملہ قرار دیا جا رہا ہے، جس نے عالمی سفارتی حلقوں میں حیرت پیدا کر دی ہے۔
پس منظر اور امریکی موقف میں تضاد
چاگوس جزائر کا تنازعہ ایک عرصے سے جاری ہے، جہاں ماریشس ان جزائر پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے جبکہ برطانیہ انہیں اپنا علاقہ قرار دیتا ہے۔ ڈیگو گارشیا انہی جزائر کا حصہ ہے اور یہاں امریکہ کا ایک اہم فوجی اڈہ قائم ہے۔ اقوام متحدہ کی عدالت انصاف (ICJ) نے برطانیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ چاگوس جزائر کو ماریشس کے حوالے کر دے، تاہم برطانیہ نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا تھا۔
گزشتہ روز امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ چاگوس جزائر پر برطانیہ کی خودمختاری کی حمایت کرتا ہے اور اس علاقے میں برطانیہ کی موجودگی کو بین الاقوامی قانون کے مطابق سمجھتا ہے۔ اس بیان کو برطانیہ کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی سمجھا جا رہا تھا، کیونکہ اس سے عالمی سطح پر اس کے موقف کو تقویت ملی تھی۔
ٹرمپ کا غیر متوقع بیان
تاہم، امریکی حمایت کے اعلان کے محض 24 گھنٹے بعد، صدر ٹرمپ نے ایک بالکل مختلف موقف اختیار کرتے ہوئے برطانیہ کو ڈیگو گارشیا جزیرہ کسی کو نہ دینے کا حکم دیا۔ صدر کے اس بیان کی تفصیلات ابھی مکمل طور پر سامنے نہیں آئی ہیں کہ آیا یہ ان کی ذاتی رائے ہے یا امریکی انتظامیہ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ اس تضاد نے نہ صرف برطانیہ بلکہ دیگر عالمی طاقتوں کو بھی الجھن میں ڈال دیا ہے کہ امریکہ کی اصل پالیسی کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان امریکہ کی خارجہ پالیسی میں ایک غیر یقینی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے اور اس کے برطانیہ کے ساتھ تعلقات پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

