جنیوا میں یوکرین کے معاملے پر جاری مذاکرات کے پہلے روز کے بعد امریکی خصوصی ایلچی نے ‘بامعنی پیشرفت’ کا دعویٰ کیا ہے۔ اگرچہ مذاکرات اب دوسرے روز میں داخل ہو چکے ہیں اور امریکی حکام پرامید دکھائی دیتے ہیں، تاہم کسی بڑے بریک تھرو یا فوری حل کی امیدیں تاحال کم دکھائی دیتی ہیں۔
مذاکرات کا پس منظر اور امریکی موقف
امریکی وفد کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پہلے دن کی نشست کے دوران فریقین نے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور کئی اہم تزویراتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی ایلچی نے مذاکرات کے ماحول کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ فریقین کے درمیان بعض اہم نکات پر اتفاقِ رائے کی راہ ہموار ہوئی ہے، جو خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کی جانب ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
بریک تھرو کے امکانات اور چیلنجز
دوسری جانب، بین الاقوامی سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ فریقین کے درمیان موجود گہرے اختلافات کے باعث فوری طور پر کسی بڑے معاہدے تک پہنچنا ایک مشکل ہدف نظر آتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگرچہ ‘بامعنی پیشرفت’ ایک خوش آئند علامت ہے، لیکن یوکرین کی سرحدوں پر جاری فوجی تناؤ اور سیکیورٹی ضمانتوں جیسے پیچیدہ معاملات پر حتمی اتفاقِ رائے کے لیے مزید طویل اور صبر آزما مذاکرات کی ضرورت ہوگی۔ فی الحال عالمی برادری کی نظریں جنیوا میں ہونے والے دوسرے روز کے مباحثوں پر جمی ہوئی ہیں۔

