غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم میں ملوث اسرائیلی فوج کے ایک سنائپر کو جنوبی امریکی ملک چلی میں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ روم کووٹن نامی اس فوجی کی سوشل میڈیا پوسٹس سے انکشاف ہوا ہے کہ وہ ان دنوں چلی میں چھٹیاں گزار رہا ہے، جس کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں اور وکلاء نے اس کے خلاف ‘عالمگیر دائرہ اختیار’ (Universal Jurisdiction) کے تحت مقدمہ چلانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس سے انکشاف
رپورٹ کے مطابق، روم کووٹن نے اپنی سیاحت اور تفریحی سرگرمیوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں، جس سے اس کی موجودگی کا علم ہوا۔ ان تصاویر نے ان قانونی ماہرین کے لیے راستہ ہموار کر دیا ہے جو غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے دوران ہونے والے مظالم پر عالمی سطح پر جوابدہی کے خواہاں ہیں۔ چلی کے قوانین کے تحت، اگر کوئی غیر ملکی شہری جنگی جرائم یا انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث پایا جائے، تو اسے وہاں کی عدالتوں میں کٹہرے میں لایا جا سکتا ہے۔
عالمگیر دائرہ اختیار اور قانونی مضمرات
‘عالمگیر دائرہ اختیار’ ایک ایسا بین الاقوامی قانونی اصول ہے جو کسی بھی ملک کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ نسل کشی، تشدد اور جنگی جرائم جیسے سنگین الزامات کے حامل افراد کے خلاف مقدمہ چلائے، قطع نظر اس کے کہ وہ جرم کس ملک کی سرزمین پر سرزد ہوا۔ ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ کووٹن کی چلی میں موجودگی اسے اس قانونی خطرے سے دوچار کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں اسے گرفتار کر کے تحقیقات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسرائیلی فوجیوں کے لیے انتباہ
اس پیش رفت کو ان تمام اسرائیلی فوجیوں کے لیے ایک سخت انتباہ قرار دیا جا رہا ہے جو غزہ میں فوجی کارروائیوں کے بعد عالمی سفر پر نکلتے ہیں۔ انسانی حقوق کے گروپوں کا موقف ہے کہ انصاف کی فراہمی کے لیے ایسے تمام افراد کا تعاقب کیا جائے گا جو معصوم شہریوں کے قتل عام اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں میں ملوث رہے ہیں۔ چلی میں مقیم فلسطینی برادری اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں فوری مداخلت کرے اور مبینہ جنگی مجرم کو قانون کے کٹہرے میں لائے۔

