فرانس کے شہر لیون میں دائیں بازو کے خیالات رکھنے والے ایک طالب علم، کوئنٹن ڈیرینقے کی ہلاکت کے الزام میں نو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ڈیرینقے کو دو روز قبل نقاب پوش افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
واقعے کی تفصیلات
اطلاعات کے مطابق، 23 سالہ کوئنٹن ڈیرینقے کو گذشتہ بدھ کی شام لیون میں اس وقت شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک تقریب سے نکل رہے تھے۔ مبینہ طور پر، یہ حملہ بائیں بازو کے انتہا پسندوں کی جانب سے کیا گیا تھا۔ اس حملے کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے تھے اور بالآخر ہفتہ کو ان کی موت واقع ہو گئی۔
پولیس نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کیا اور ابتدائی شواہد کی بنیاد پر نو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے افراد کا تعلق بائیں بازو کی انتہا پسند تنظیموں سے ہو سکتا ہے۔ پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے اور واقعے میں ملوث دیگر افراد کی تلاش جاری ہے۔
اس واقعے نے فرانس میں سیاسی تقسیم اور انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ دائیں بازو کی جماعتوں نے اس ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے اور حکومت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

