برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیشِ نظر بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے سخت ترین اقدامات کا عندیہ دے دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس کے خلاف اسی طرح نبرد آزما ہوگی جیسے ‘گروک’ (Grok) کے معاملے میں سخت موقف اپنایا گیا تھا۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ پر بچوں کی سلامتی کے حوالے سے کسی بھی آن لائن پلیٹ فارم کو ‘فری پاس’ یا استثنیٰ نہیں دیا جائے گا۔
آن لائن پلیٹ فارمز کے لیے سخت ضابطہ اخلاق
حکومت کے نئے منصوبوں کے مطابق، تمام ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو سخت قانونی فریم ورک کا پابند بنایا جائے گا۔ کیئر اسٹارمر نے زور دیا کہ بچوں کو انٹرنیٹ پر موجود نقصان دہ مواد اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے پیدا ہونے والے خطرات سے بچانا ریاست کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو پلیٹ فارمز بچوں کی حفاظت کے معیارات پر پورا نہیں اتریں گے، انہیں سنگین قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹیکنالوجی کمپنیوں کو واضح پیغام
ایلون مسک کے اے آئی ماڈل ‘گروک’ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے ثابت کیا ہے کہ وہ بڑے پلیٹ فارمز کو جوابدہ ٹھہرانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی خوش آئند ہے لیکن اسے بچوں کے مستقبل اور ان کی ذہنی و جسمانی سلامتی کی قیمت پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کا مقصد ایک ایسا ڈیجیٹل ماحول تخلیق کرنا ہے جہاں والدین اپنے بچوں کے آن لائن سرگرمیوں کے حوالے سے خود کو محفوظ تصور کریں۔
مستقبل کا لائحہ عمل
برطانوی حکومت جلد ہی ان نئے قوانین کی تفصیلات جاری کرے گی جن کے تحت اے آئی چیٹ بوٹس کی نگرانی اور ان کے مواد کی جانچ پڑتال کے نظام کو مزید سخت بنایا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، وزیر اعظم کا یہ بیان عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ برطانیہ اب ڈیجیٹل سیفٹی کے معاملے میں کسی بھی قسم کی نرمی برتنے کے حق میں نہیں ہے۔

