پیر, مارچ 16, 2026
الرئيسيةUncategorizedانسٹاگرام کے سربراہ کا اعتراف: روزانہ 16 گھنٹے کا استعمال 'نشہ' نہیں...

انسٹاگرام کے سربراہ کا اعتراف: روزانہ 16 گھنٹے کا استعمال ‘نشہ’ نہیں بلکہ ‘مسئلہ’ ہے

سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری نے نوجوانوں پر ایپلی کیشن کے اثرات کے حوالے سے ہونے والی ایک حالیہ پوچھ گچھ کے دوران ایک متنازع بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر کوئی صارف روزانہ 16 گھنٹے انسٹاگرام استعمال کرتا ہے تو یہ عمل ‘مسئلہ’ تو ہو سکتا ہے لیکن اسے ‘نشہ’ یا ‘لت’ (Addiction) قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

سماعت کی تفصیلات اور ایڈم موسیری کا موقف

ایڈم موسیری سے یہ سوالات اس وقت کیے گئے جب وہ کم عمر صارفین کی ذہنی صحت اور سوشل میڈیا کے ان پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کے حوالے سے جوابدہ تھے۔ دورانِ سماعت جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ روزانہ 16 گھنٹے کے استعمال کو نشہ تسلیم کرتے ہیں، تو انہوں نے اس اصطلاح کے استعمال سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘نشہ’ ایک طبی اصطلاح ہے جس کے گہرے معنی ہیں، اور وہ اسے اس تناظر میں استعمال کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔

مسئلہ اور نشے کے درمیان فرق

انسٹاگرام کے سربراہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اتنی بڑی مقدار میں وقت کا ضیاع ایک سنگین مسئلہ ہے جو صارف کی سماجی اور نجی زندگی کو متاثر کر سکتا ہے۔ تاہم، ان کے مطابق اسے طبی بنیادوں پر نشہ قرار دینے کے بجائے ایک ‘مسئلہ آمیز رویہ’ سمجھنا چاہیے، جس پر قابو پانے کے لیے کمپنی مختلف فیچرز متعارف کروا رہی ہے۔

ماہرین اور قانون سازوں کے تحفظات

دوسری جانب، ماہرینِ نفسیات اور قانون سازوں نے ایڈم موسیری کے اس بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ انسٹاگرام کے الگورتھم اس طرح ترتیب دیے گئے ہیں کہ وہ صارفین، بالخصوص بچوں اور نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ وقت ایپ پر گزارنے کے لیے مائل کرتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ جب کوئی پلیٹ فارم کسی کی روزمرہ زندگی کے 16 گھنٹے نگل جائے، تو اسے محض ایک مسئلہ قرار دینا حقیقت سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔

کمپنی کے حفاظتی اقدامات

واضح رہے کہ انسٹاگرام کو طویل عرصے سے تنقید کا سامنا ہے کہ وہ نوجوانوں کی ذہنی صحت کے تحفظ کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہا۔ اگرچہ کمپنی نے ‘ٹیک اے بریک’ (Take a Break) جیسے فیچرز متعارف کروائے ہیں، لیکن عوامی حلقوں میں یہ بحث اب بھی شدت اختیار کیے ہوئے ہے کہ کیا یہ اقدامات بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل نشے کو روکنے کے لیے کافی ہیں۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں