انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری نے اعتراف کیا ہے کہ کسی بھی صارف کی جانب سے روزانہ 16 گھنٹے تک ایپ کا استعمال ایک ‘مسئلہ’ تو ہو سکتا ہے، تاہم اسے ‘لت’ یا نشہ (Addiction) قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ بیان انہوں نے کم عمر صارفین پر سوشل میڈیا کے اثرات کے حوالے سے ہونے والی ایک اہم سماعت کے دوران دیا، جہاں انہیں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔
سماعت کی تفصیلات اور قانون سازوں کے خدشات
امریکی قانون سازوں کی جانب سے ایڈم موسیری سے کی جانے والی پوچھ گچھ کا محور نوجوانوں اور بچوں کی ذہنی صحت پر انسٹاگرام کے اثرات تھے۔ سماعت کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایک دن میں 16 گھنٹے کا مسلسل استعمال نشے کی علامت ہے، تو انہوں نے اس مخصوص اصطلاح کے استعمال سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ‘لت’ کے بجائے ‘مسئلہ ساز استعمال’ (Problematic use) کی اصطلاح کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ‘لت’ ایک طبی اصطلاح ہے جس کے گہرے معنی ہیں۔
کمپنی کا موقف اور حفاظتی اقدامات
ایڈم موسیری نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انسٹاگرام ایسی ٹیکنالوجیز اور فیچرز پر کام کر رہا ہے جو صارفین کو اپنے وقت کا بہتر انتظام کرنے اور ایپ سے وقفہ لینے کی ترغیب دیتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کمپنی کی ترجیح صارفین، خاص طور پر نوجوانوں کی حفاظت ہے، اور وہ پلیٹ فارم کو مزید محفوظ بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا کے اثرات پر عالمی بحث
واضح رہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے انسانی نفسیات اور خاص طور پر بچوں کی نشوونما پر پڑنے والے منفی اثرات کے حوالے سے عالمی سطح پر ایک طویل بحث جاری ہے۔ ناقدین کا الزام ہے کہ یہ ایپس اس طرح ڈیزائن کی گئی ہیں کہ صارفین ان کے سحر میں جکڑے رہیں، جبکہ انسٹاگرام جیسی بڑی کمپنیوں کی انتظامیہ ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہے۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ اس طرح کے پلیٹ فارمز کا حد سے زیادہ استعمال ڈپریشن اور بے چینی جیسے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔

