افریقی ملک کینیا میں خشک سالی کی حالیہ لہر نے شدت اختیار کر لی ہے، جس کے نتیجے میں 20 لاکھ سے زائد افراد خوراک کی شدید قلت اور فاقہ کشی کا شکار ہو گئے ہیں۔ حکام اور امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کی مسلسل کمی اور بڑھتی ہوئی تپش کی وجہ سے ملک کے کئی اضلاع میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے اور ایک بڑا انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔
غذائی قلت اور پانی کا شدید بحران
خشک سالی سے متاثرہ کاؤنٹیز میں پینے کے پانی کے ذخائر مکمل طور پر خشک ہو چکے ہیں، جس کے باعث نہ صرف انسان بلکہ جنگلی حیات بھی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق متاثرہ علاقوں میں غذائی قلت کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جہاں ہزاروں بچے اور حاملہ خواتین خوراک کی عدم دستیابی کے باعث سنگین طبی مسائل کا شکار ہیں۔ پانی کی تلاش میں مقامی آبادی کو میلوں پیدل سفر کرنا پڑ رہا ہے، جس سے نقل مکانی کے رجحان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
مویشیوں کی ہلاکتیں اور معاشی تباہی
کینیا کی دیہی معیشت کا بڑا حصہ لائیو اسٹاک اور زراعت پر منحصر ہے، تاہم چارے کی عدم دستیابی اور پانی کی قلت نے لاکھوں مویشیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ چرواہوں اور کسانوں کے لیے اپنے جانوروں کو زندہ رکھنا ناممکن ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے مقامی سطح پر گوشت اور دودھ کی فراہمی معطل ہو کر رہ گئی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مویشیوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں سے دیہی علاقوں میں غربت کی شرح مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
عالمی برادری سے فوری امداد کی اپیل
کینیا کی حکومت اور بین الاقوامی امدادی اداروں نے عالمی برادری سے ہنگامی بنیادوں پر امداد کی اپیل کی ہے۔ ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث خشک سالی کے دورانیے میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ امدادی تنظیموں نے زور دیا ہے کہ اگر متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر خوراک، صاف پانی اور طبی سہولیات نہ پہنچائی گئیں تو اموات کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔

