ٹائیوان نے واشنگٹن کی جانب سے سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کا 40 فیصد حصہ منتقل کرنے کی تجویز کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے ‘ناممکن’ قرار دے دیا ہے۔ ٹائیوان کے نائب وزیراعظم چینگ لی چیون نے اپنے ایک حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ اس قدر بڑے پیمانے پر پیداواری ڈھانچے کی منتقلی عملی طور پر ممکن نہیں ہے اور اس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔
امریکی مطالبہ اور ٹائیوان کا موقف
امریکی حکومت کی جانب سے مسلسل یہ دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ تزویراتی اور جغرافیائی سیاسی خطرات کے پیشِ نظر ٹائیوان اپنی سیمی کنڈکٹر صنعت کا ایک بڑا حصہ امریکہ منتقل کرے۔ تاہم، تائیوانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی صنعت کا ماحولیاتی نظام اس قدر پیچیدہ اور مربوط ہے کہ اس کا 40 فیصد حصہ کسی دوسری جگہ منتقل کرنا نہ صرف تکنیکی طور پر دشوار ہے بلکہ یہ عالمی معیشت کے لیے بھی سودمند ثابت نہیں ہوگا۔
عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ پر اثرات
واضح رہے کہ ٹائیوان اس وقت دنیا بھر میں جدید ترین چپس اور سیمی کنڈکٹرز کی فراہمی کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں ٹائیوان کی اس کلیدی حیثیت کو دیکھتے ہوئے واشنگٹن اپنی سپلائی لائن کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹائیوان کا یہ سخت موقف ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی معاشی بنیادوں اور عالمی برتری پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔
مستقبل کے خدشات
نائب وزیراعظم چینگ لی چیون کے اس بیان نے واشنگٹن اور تائی پے کے درمیان ٹیکنالوجی کی منتقلی کے حوالے سے جاری مذاکرات میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ امریکہ تائیوان کا اہم ترین اتحادی ہے، لیکن چپ سازی کی صنعت کی منتقلی کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی مفادات کے ٹکراؤ کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

