جدید ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں مصنوعی ذہانت (AI) زندگی کے ہر شعبے میں قدم جما رہی ہے، وہیں ایک حالیہ طبی تحقیق نے صحت سے متعلق معاملات میں اس کے استعمال پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ طبی مشوروں کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس پر انحصار کرنا انسانی جان کے لیے ‘سنگین خطرہ’ ثابت ہو سکتا ہے۔
تحقیق کے اہم مندرجات
ایک بین الاقوامی مطالعے کے مطابق، مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس اکثر ایسی معلومات فراہم کرتے ہیں جو طبی لحاظ سے غیر مستند یا گمراہ کن ہو سکتی ہیں۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ عام صارفین کے لیے یہ تمیز کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے کہ اے آئی کی جانب سے دی گئی کون سی معلومات درست ہیں اور کن پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ صورتحال مریضوں کو غلط علاج یا غلط ادویات کے انتخاب کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
صارفین کے لیے درپیش مشکلات
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اے آئی چیٹ بوٹس انسانی معالج کی طرح مریض کی طبی تاریخ اور پیچیدگیوں کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ مطالعے میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ جب لوگ اپنی علامات کے بارے میں ان چیٹ بوٹس سے سوال کرتے ہیں، تو وہ اکثر ایسی تجاویز دیتے ہیں جو بظاہر منطقی معلوم ہوتی ہیں لیکن حقیقت میں وہ طبی اصولوں کے منافی ہوتی ہیں۔ صارفین کی ایک بڑی تعداد ان مشوروں کو مستند سمجھ کر ان پر عمل شروع کر دیتی ہے، جو کہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کی رائے اور احتیاطی تدابیر
طبی ماہرین نے اس رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کبھی بھی ایک پیشہ ور ڈاکٹر کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ انٹرنیٹ یا مصنوعی ذہانت سے حاصل کردہ معلومات کو حتمی نہ سمجھیں اور کسی بھی قسم کی طبی علامت ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر مستند معالج سے رجوع کریں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اے آئی صرف معلوماتی حد تک معاون ہو سکتی ہے، لیکن تشخیص اور علاج کے لیے انسانی مہارت اور کلینیکل تجربہ ناگزیر ہے۔

