امریکہ کی معروف ریٹیل کمپنی ‘ٹارگٹ’ نے اسٹورز کے انتظام کو بہتر بنانے اور صارفین کے تجربے کو خوشگوار بنانے کے لیے اپنی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی نے اسٹورز میں عملے کی تعداد اور سرمایہ کاری بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ اس مقصد کے حصول کے لیے دیگر شعبوں سے تقریباً 500 ملازمین کو فارغ کیا جا رہا ہے۔
صارفین کی شکایات اور اسٹورز کی صورتحال
ٹارگٹ انتظامیہ کی جانب سے یہ اقدام ان شکایات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں صارفین نے اسٹورز کی ابتر صورتحال، اشیاء کی عدم دستیابی اور ادائیگی کے کاؤنٹرز پر طویل قطاروں کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ حالیہ مہینوں میں خریداروں کی جانب سے مسلسل یہ شکایت کی جا رہی تھی کہ اسٹورز میں صفائی ستھرائی کا معیار گر رہا ہے اور ضرورت کی اشیاء بروقت شیلفوں پر موجود نہیں ہوتیں۔
حکمت عملی میں تبدیلی کے مقاصد
کمپنی کا بنیادی مقصد ان صارفین کو دوبارہ اپنی طرف راغب کرنا ہے جو اسٹورز کے غیر تسلی بخش انتظام کی وجہ سے دیگر متبادل تلاش کر رہے تھے۔ انتظامیہ کا موقف ہے کہ 500 کے قریب انتظامی اور دیگر معاون عہدوں کو ختم کرنے سے حاصل ہونے والے وسائل کو براہِ راست اسٹورز کے عملے پر خرچ کیا جائے گا، تاکہ گاہکوں کو خریداری کے دوران بہتر رہنمائی اور فوری سروس فراہم کی جا سکے۔
مستقبل کے اہداف
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹارگٹ کا یہ فیصلہ ریٹیل مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے مقابلے اور صارفین کی بدلتی ہوئی ترجیحات کا عکاس ہے۔ کمپنی کو امید ہے کہ اسٹورز میں عملے کی موجودگی سے نہ صرف اشیاء کی فراہمی بروقت ممکن ہو سکے گی بلکہ چیک آؤٹ لائنوں میں لگنے والا وقت بھی کم ہو جائے گا، جس سے مجموعی طور پر سیلز میں اضافے کی توقع ہے۔

