برطانیہ کے وزیرِ اعظم کے سینیئر مشیر ڈونالڈ میکسویینی نے منڈلسن معاملے کے باعث اپنی خدمات سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ اس نے واضح کیا کہ اس نے سِر کیئر سٹارمر کو امریکی سفیر مقرر کرنے کے مشورے میں مکمل ذمہ داری قبول کی ہے۔
استعفیٰ کی وجوہات
میکسویینی کے مطابق، منڈلسن کے ساتھ جاری سیاسی کشمکش نے اس کی پالیسی سازی اور حکومتی مشاورت پر منفی اثر ڈالا۔ اس نے کہا کہ اس کی جانب سے سٹارمر کو امریکی سفیر کے عہدے پر تجویز کرنا ایک سنگین غلطی تھی جس کے نتائج پر وہ خود ذمہ دار ہے۔
حکومت کا ردعمل
وزیرِ اعظم کے دفتر نے اس کے استعفیٰ کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ میکسویینی کی خدمات نے حکومت کو کئی اہم مواقع پر فائدہ پہنچایا۔ تاہم، اس کی جانب سے پیش کردہ مشورے کی وجہ سے پیدا ہونے والی سیاسی پریشانیوں کو حل کرنے کے لیے نئی حکمت عملی اپنائی جائے گی۔
سیاسی ماہرین کی رائے
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ میکسویینی کا استعفیٰ برطانوی سیاست میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے جانے سے حکومت کو داخلی اور خارجی پالیسیوں میں نئی سمت متعین کرنے کا موقع ملے گا، جبکہ سٹارمر کی امریکی سفارت خانے کی تقرری پر بھی دوبارہ غور کیا جا سکتا ہے۔
آئندہ امکانات
حکومت کے ذرائع کے مطابق، اس وقت نئی مشاورتی ٹیم کی تشکیل پر کام جاری ہے تاکہ منڈلسن کے تنازعے کے بعد حکومتی استحکام کو بحال کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، سٹارمر کی سفارتی تقرری پر بھی مزید مشاورت کی جائے گی۔

