عالمی کپ فاتح اور رگبی کے لیجنڈ میٹ ڈاسن نے ویلز کے خلاف انگلینڈ کی ٹیم کی سات ٹرائیوں کے ذریعے حاصل کی گئی شاندار فتح پر تفصیلی تبصرہ کیا ہے، جس میں انہوں نے ٹیم کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور جسمانی دبدبے کو اجاگر کیا ہے۔ ڈاسن نے کہا ہے کہ کوچ اسٹیو بورتھوک کی قیادت میں انگلینڈ کی ٹیم کی کارکردگی میں غیر معمولی تبدیلی آئی ہے اور کھلاڑی اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور پراعتماد نظر آتے ہیں۔
شرٹ کا بوجھ اور کھلاڑیوں کی تبدیلی
میٹ ڈاسن نے اپنے تجزیے میں ٹیم کی نفسیاتی اور جسمانی تبدیلی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں انگلینڈ کی قومی شرٹ پہننا کھلاڑیوں کے لیے ایک بوجھل ذمہ داری محسوس ہوتی تھی، لیکن اب صورتحال بالکل مختلف ہے۔
"ایک وقت تھا جب انگلینڈ کی شرٹ کھلاڑیوں کے لیے بوجھل محسوس ہوتی تھی، جیسے اس کا وزن بہت زیادہ ہو۔ لیکن اب یہ کھلاڑی اس شرٹ میں دوگنے نظر آتے ہیں۔ ان کا جسمانی دبدبہ، ان کا اعتماد اور میدان میں ان کی موجودگی (presence) غیر معمولی ہو چکی ہے۔ ویلز کو عبرتناک شکست دینا اسی بڑھتے ہوئے اعتماد کا ثبوت ہے۔” ڈاسن نے مزید کہا کہ یہ تبدیلی صرف تکنیکی نہیں بلکہ کھلاڑیوں کی ذہنی مضبوطی کا بھی مظہر ہے۔
کوچ بورتھوک کے لیے فرانس سے سیکھنے کے سبق
اگرچہ انگلینڈ کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے، لیکن ڈاسن نے کوچ اسٹیو بورتھوک کو خبردار کیا ہے کہ انہیں مزید بلندیوں کو چھونے کے لیے فرانس کی ٹیم کے کھیل کا بغور مطالعہ کرنا چاہیے۔ ڈاسن نے مشورہ دیا کہ عالمی سطح پر مستقل کامیابی حاصل کرنے کے لیے انگلینڈ کو فرانس جیسی اعلیٰ درجے کی ٹیموں کی حکمت عملی سے اہم سبق سیکھنے ہوں گے۔
ڈاسن کے مطابق، فرانس کی ٹیم جس طرح کھیل کے مختلف مراحل میں توازن برقرار رکھتی ہے اور دباؤ میں بھی اپنی حکمت عملی پر قائم رہتی ہے، وہ انگلینڈ کے لیے ایک اہم مثال ہے۔ بورتھوک کو چاہیے کہ وہ ٹیم کی تکنیکی اور دفاعی صلاحیتوں کو مزید نکھاریں تاکہ بڑے ٹورنامنٹس میں وہ دباؤ کو بہتر طریقے سے سنبھال سکیں۔

