امریکہ نے چین پر 2020 میں خفیہ ایٹمی دھماکہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اسے نئے ایٹمی معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ تاہم، ایک بین الاقوامی مانیٹر نے واضح کر دیا ہے کہ اس دعوے کی تائید کے لیے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔
تفصیلات
امریکہ اور روس کے درمیان موجودہ ایٹمی معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد، امریکی حکام نے چین سے نئی ایٹمی ہتھیاروں کے معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی ایک سینئر امریکی ایٹمی افسر نے چین پر 2020 میں خفیہ ایٹمی ٹیسٹ کرنے کا الزام عائد کیا۔ اس الزام کے پس منظر میں امریکہ کی اپنی ایٹمی ٹیسٹنگ کو دوبارہ شروع کرنے کی منصوبہ بندی بھی شامل ہے۔
ریاست ہائے متحدہ کے اس دعوے کے خلاف، جنیوا میں مقیم بین الاقوامی مانیٹرنگ ایجنسی نے کہا کہ اس نے چین کے کسی بھی ایٹمی ٹیسٹ کے ثبوت کی جانچ پڑتال کی ہے اور اس وقت تک کوئی قابلِ اعتماد شواہد سامنے نہیں آئے۔ مانیٹر نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ملک پر ایسے سنگین الزام لگانے سے پہلے شواہد کی مکمل تصدیق لازمی ہے۔
یہ بیان عالمی سطح پر ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معیارات اور بین الاقوامی سلامتی کے حوالے سے اہم اثرات رکھتا ہے۔ چین نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا کہ اس نے کسی بھی غیر قانونی ایٹمی سرگرمی میں حصہ نہیں لیا۔ اس کے ساتھ ہی، امریکہ کی جانب سے ایٹمی ٹیسٹنگ کے دوبارہ آغاز کے منصوبے پر بھی بین الاقوامی برادری کی توجہ مرکوز ہے۔

