روس اور یوکرین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا ایک اور دور مکمل ہو گیا ہے، جس کے تحت 157 یوکرینی اور 160 روسی قیدیوں کو ان کے آبائی وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔ یہ تبادلہ گزشتہ اکتوبر کے بعد پہلا موقع ہے جب دونوں ممالک نے قیدیوں کا تبادلہ کیا ہے۔ تاہم، جاری امن مذاکرات میں کسی بھی قسم کی پیش رفت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
مذاکرات میں سست روی پر یوکرینی صدر کا اظہار تشویش
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے مذاکرات کو مشکل قرار دیتے ہوئے "تیز نتائج” کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں نے 157 قیدیوں کے باہمی تبادلے پر اتفاق کیا ہے، جو کہ ان بات چیت کا ایک نادر ٹھوس نتیجہ ہے۔
امریکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات
یہ پیش رفت واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے دوران سامنے آئی، جس میں امریکہ نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ اگرچہ قیدیوں کے تبادلے نے ایک مثبت پہلو اجاگر کیا ہے، لیکن جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام کے حوالے سے اب تک کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

