سویڈن کی معروف کار ساز کمپنی وولوو کارز کے حصص میں آج 18 فیصد سے زائد کی نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ کمپنی کی تاریخ کا بدترین تجارتی دن بن گیا۔ حصص کی یہ غیر معمولی گراوٹ کمپنی کی جانب سے چوتھی سہ ماہی کے منافع میں بڑی کمی کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔
منافع میں کمی کی وجوہات
وولوو کارز نے اپنی حالیہ مالیاتی رپورٹ میں بتایا کہ چوتھی سہ ماہی میں اس کے منافع میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ کمپنی نے اس کمی کی بنیادی وجوہات میں ٹیرف (محصولات) کے بڑھتے ہوئے بوجھ، کرنسی کے اتار چڑھاؤ کے منفی اثرات، اور عالمی منڈی میں گاڑیوں کی کمزور طلب کو قرار دیا ہے۔
کمپنی کے مطابق، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور عالمی سپلائی چین میں جاری رکاوٹوں نے پیداواری لاگت میں اضافہ کیا ہے، جبکہ صارفین کی جانب سے نئی گاڑیوں کی خریداری میں سست روی بھی دیکھی جا رہی ہے۔
سرمایہ کاروں کا ردعمل
مالیاتی نتائج کے اعلان کے فوراً بعد، سرمایہ کاروں نے کمپنی کے حصص کی بڑے پیمانے پر فروخت شروع کر دی، جس کے نتیجے میں حصص کی قیمتیں ریکارڈ نچلی سطح پر پہنچ گئیں۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ گراوٹ عالمی آٹو موٹیو سیکٹر میں جاری چیلنجز، خصوصاً الیکٹرک گاڑیوں کی منتقلی میں سست روی اور بڑھتے ہوئے پیداواری اخراجات کی عکاسی کرتی ہے۔
وولوو کارز، جو چینی کمپنی جیلی (Geely) کی ملکیت ہے، نے حالیہ برسوں میں الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری پر زور دیا ہے، لیکن کمزور سہ ماہی نتائج نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

