دنیا کی سب سے مقبول ڈیجیٹل کرنسی بِٹ کوائن نے 2026 کے آغاز سے تقریباً 20 فیصد قدر میں کمی کا سامنا کیا ہے۔ اس گراوٹ نے گزشتہ ماہ کے دوران تقریباً 30 فیصد تک کی گہرائی تک پہنچ کر سرمایہ کاروں کے بڑے حصے کو نقصان پہنچایا۔
مارکیٹ کا جائزہ
گلاس نوڈ کے ایک تجزیہ کار کے مطابق، بِٹ کوائن کی کل فراہمی کا 44 فیصد حصہ اب "پانی کے نیچے” ہے، یعنی موجودہ قیمت اس کی خریداری لاگت سے کم ہے۔ اس کے ساتھ ہی، صرف ایک ہفتے کے اندر تقریباً نصف ٹریلین ڈالر کی قدر کے ساتھ تمام کرپٹو کرنسیوں کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمی آئی ہے، جس کی بڑی وجہ بِٹ کوائن کی تیز رفتار فروخت ہے۔
ماہرین کی رائے
مالیاتی ماہرین نے اس گراوٹ کے اسباب پر مختلف نظریات پیش کیے ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 2024 کے انتخاب کے بعد کرپٹو مارکیٹ میں خوش آئند رجحان تھا، لیکن اس کے بعد عالمی مالیاتی پالیسیوں میں تبدیلی اور ریگولیٹری دباؤ نے قیمتوں پر منفی اثر ڈالا۔ دیگر ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ بِٹ کوائن کی قیمتیں اب زیادہ مستحکم بنیادوں پر منحصر ہوں گی اور سرمایہ کاروں کو محتاط رویہ اپنانا چاہیے۔
سرمایہ کاروں کے لیے اثرات
اس گراوٹ کے نتیجے میں، کئی بڑے سرمایہ کاروں نے اپنی پوزیشنز کم کر دی ہیں اور مارکیٹ میں مزید عدم استحکام کے خطرے سے نمٹنے کے لیے متبادل سرمایہ کاری کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو بِٹ کوائن کی قیمتیں مزید نیچے جا سکتی ہیں، تاہم تکنیکی حمایت کی سطحیں بھی اس کی ممکنہ بحالی کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔

