روس کی فوجی پیش رفت کے باعث اپنی بستی کے ممکنہ قبضے سے خوفزدہ ہونے والی نیٹالیا نے اپنے شوہر کی لاش کی دوسری دفنائی کیف میں کرائی۔ تین سال قبل مشرقی ڈونباس میں لڑتے ہوئے وفات پانے والے وِٹالی کی پہلی قبر شہر کے باہر تھی، لیکن روسی فوج کی مسلسل پیش رفت نے انہیں اپنی آخری آرام گاہ کے طور پر کیف کے بائیکوو قبرستان کا انتخاب کرنے پر مجبور کیا۔
پس منظر
وِٹالی، جو 2020 میں مشرقی یوکرین کے تنازعے میں مارے گئے، کی پہلی تدفین اس کے مقامی گاؤں میں کی گئی تھی۔ تاہم، روس کی تازہ ترین پیش رفت اور اس علاقے کے ممکنہ قبضے کے پیش نظر، نیٹالیا نے اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے قبر کو دوبارہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
نئی تدبیر اور عمل
نیٹالیا نے کیف کے بائیکوو قبرستان میں ایک نئی جگہ خریدی اور وہاں وِٹالی کی لاش کو دوبارہ دفنایا۔ اس کے ساتھ ہی، اس کے والد کی بھی اسی قبرستان میں تدفین کا انتظام کیا گیا۔ نئی قبر کی تکمیل کے بعد، نیٹالیا نے سوشل میڈیا پر اس اقدام کی اطلاع دی، جس پر بین الاقوامی سطح پر ہمدردی اور حمایت کے پیغامات آئے۔
شخصی اثرات اور ذہنی صحت
قبر کی منتقلی کے ساتھ ساتھ، نیٹالیا کی بیٹی ویرونیکا بھی شدید ذہنی دباؤ اور گھبراہٹ کے حملوں سے دوچار ہے۔ وہ اس وقت بحالی کے عمل میں ہے اور اپنی زندگی کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کی صحت کے لیے ماہرین نے مشاورت اور تھراپی کی تجویز دی ہے۔
بین الاقوامی ردعمل
بی بی سی اور دیگر عالمی میڈیا نے اس واقعے کو روسی جارحیت کے انسانی اثرات کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا۔ اس کے ساتھ ہی، انسانی حقوق کے تنظیموں نے جنگ کے متاثرین کی حفاظت اور ان کی ذہنی صحت کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

