عالمی مالیاتی منڈیوں میں ہیج فنڈز نے سافٹ ویئر کمپنیوں کے حصص (اسٹاکس) پر اپنی شارٹ سیلنگ کی حکمت عملی کے ذریعے رواں سال اب تک 24 ارب ڈالر کا بھاری منافع کمایا ہے۔ وال سٹریٹ کے بڑے فنڈز کے ذرائع کے مطابق، یہ فنڈز اب اپنی مندی کی شرط کو مزید بڑھا رہے ہیں، جس سے اس شعبے میں فروخت کا دباؤ شدید ہو گیا ہے۔
یہ منافع 2026 کے آغاز سے لے کر اب تک حاصل کیا گیا ہے اور یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ بڑے سرمایہ کار سافٹ ویئر سیکٹر کی مستقبل کی کارکردگی کے بارے میں پر امید نہیں ہیں۔ دو بڑے فنڈز کے اندرونی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ان کی شارٹ پوزیشنز میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جو مارکیٹ میں جاری شدید گراوٹ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
شارٹ سیلنگ کی حکمت عملی
شارٹ سیلنگ ایک ایسی حکمت عملی ہے جہاں سرمایہ کار کسی اسٹاک کو اس امید پر فروخت کرتے ہیں کہ مستقبل میں اس کی قیمت گرے گی، اور پھر اسے کم قیمت پر خرید کر منافع کمایا جائے گا۔ ہیج فنڈز کی جانب سے سافٹ ویئر اسٹاکس کے خلاف اس جارحانہ حکمت عملی نے اس شعبے میں ایک سنگین اور ظالمانہ فروخت کے رجحان کو جنم دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیج فنڈز کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سافٹ ویئر اسٹاکس کی قیمتیں ابھی بھی اپنی اصل قدر سے زیادہ ہیں اور ان میں مزید گراوٹ کا امکان ہے۔ اس بڑے پیمانے کی شارٹ سیلنگ نے مارکیٹ میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں حصص کی قیمتوں میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔
مزید سرمایہ کاری کا فیصلہ
24 ارب ڈالر کا منافع کمانے کے باوجود، ہیج فنڈز اپنی شارٹ پوزیشنز کو کم کرنے کے بجائے انہیں مزید بڑھا رہے ہیں۔ یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بڑے سرمایہ کاروں کو یقین ہے کہ سافٹ ویئر سیکٹر میں مندی کا رجحان ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور وہ اس جاری گراوٹ سے مزید فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔

