دوا ساز کمپنی نوو نورڈِسک (Novo Nordisk) کو ایک شدید مالیاتی دھچکا لگا ہے، جب کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) نے سرمایہ کاروں کو خبردار کیا کہ بہتری آنے سے پہلے حالات مزید خراب ہوں گے۔ اس انتباہ کے بعد کمپنی کے حصص کی قیمتوں میں ۱۸ فیصد کی بڑی گراوٹ دیکھنے میں آئی۔
یہ گراوٹ اس وقت ہوئی جب منگل کی دیر شام کمپنی نے اچانک اپنے ۲۰۲۶ کے مالیاتی تخمینے (forecast) جاری کیے، جس نے مارکیٹ میں ہلچل مچا دی۔ کمپنی کے حصص جو بظاہر بحالی کے آثار دکھا رہے تھے، اس غیر متوقع اعلان کے بعد تیزی سے مندی کا شکار ہو گئے۔
مالیاتی پیشن گوئی اور حصص کی مندی
نوو نورڈِسک نے منگل کے روز اعلان کیا کہ اسے توقع ہے کہ رواں سال اس کی فروخت اور آمدنی میں ۵ فیصد سے ۱۳ فیصد تک کمی آئے گی۔ یہ غیر متوقع پیشن گوئی سرمایہ کاروں کے لیے ایک سرد جھونکے سے کم نہیں تھی، جس کے نتیجے میں حصص کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئیں۔
مارکیٹ بند ہونے کے بعد جاری ہونے والے ان اعداد و شمار نے سرمایہ کاروں میں فوری طور پر گھبراہٹ پیدا کر دی، کیونکہ یہ توقعات کے بالکل برعکس تھے۔ صرف ایک ہفتے کے دوران، کمپنی کے حصص کی قیمتوں میں مجموعی طور پر ۱۷.۹ فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو کمپنی کی مارکیٹ ویلیو کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔
افادیت کے اعداد و شمار کا اثر
حصص کی اس بڑی گراوٹ کی ایک اور اہم وجہ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ وہ اعداد و شمار تھے جو اس کی نئی نسل کی ذیلی جلد (subcutaneous) دوا کے آخری مرحلے کے مطالعے (late-stage study) سے حاصل ہوئے تھے۔
یہ اعداد و شمار دوا کی افادیت (efficacy) کے حوالے سے توقعات سے کہیں زیادہ کمزور ثابت ہوئے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ کمزور ڈیٹا دوا ساز کمپنی کے مستقبل کے منافع کے امکانات پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کمپنی اپنے نئے پروڈکٹس پر انحصار کر رہی تھی۔ سی ای او کا انتباہ اور کمزور افادیت کے اعداد و شمار نے مل کر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

