ہفتہ, مارچ 7, 2026
الرئيسيةامریکی دباؤ کو نظرانداز کرتے ہوئے یوراگوئے کے صدر اورسی نے چین...

امریکی دباؤ کو نظرانداز کرتے ہوئے یوراگوئے کے صدر اورسی نے چین کے ساتھ تعلقات کو نئی گہرائی بخشی

یوراگوئے کے صدر یامانڈو اورسی نے چین کا ایک اہم دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ وہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف امریکی اقدامات کے بعد چین کا دورہ کرنے والے پہلے لاطینی امریکی رہنما ہیں۔

تعلقات کو مضبوط بنانے کا عزم

صدر اورسی نے اپنے دورے کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ہدف "یوراگوئے کو دنیا میں بااختیار بنانا اور مواقع، سرمایہ کاری اور ترقی پیدا کرنا” ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک تبصرے میں اس بات پر زور دیا کہ بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا ان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے۔

بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پر تعاون

ملاقات کے دوران، یوراگوئے کے رہنما نے چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے تحت تعاون کو مزید بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ یوراگوئے ان چند لاطینی امریکی ممالک میں شامل ہے جو چین کے اس عالمی انفراسٹرکچر منصوبے میں شامل ہو چکے ہیں، جس پر واشنگٹن اکثر تنقید کرتا رہا ہے۔

دوستی کی عمارت میں ایک اور اینٹ

صدر اورسی نے امید ظاہر کی کہ ان کا یہ دورہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی عمارت میں ایک اور اینٹ کا اضافہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یوراگوئے مشرقی ایشیا کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو وسعت دینے کا خواہاں ہے تاکہ علاقائی تجارت اور اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

جیو پولیٹیکل تناظر

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، صدر اورسی کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ لاطینی امریکہ میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر تشویش کا اظہار کر رہا ہے۔ وینزویلا کے صدر مادورو کے خلاف امریکی اقدامات کے بعد کسی بھی لاطینی امریکی رہنما کا چین کا دورہ کرنا، بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا واضح اشارہ ہے اور اسے امریکی دباؤ کو نظرانداز کرنے کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں