میلانیا ٹرمپ پر بنائی گئی ایک نئی دستاویزی فلم نے ریلیز کے پہلے ہی ہفتے میں باکس آفس پر حیران کن کامیابی حاصل کی ہے۔ فلم نے ابتدائی تین روز میں 70 لاکھ 40 ہزار امریکی ڈالر سے زائد کی کمائی کر کے گذشتہ ایک دہائی میں کسی بھی غیر موسیقی دستاویزی فلم کے لیے سب سے بڑا اوپننگ ویک اینڈ ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔
فلم کی کامیابی اور تجزیہ
یہ فلم، جس کی ہدایت کاری بریٹ رینر نے کی ہے، سابق خاتون اول میلانیا ٹرمپ کی زندگی اور ان کے اثر و رسوخ پر روشنی ڈالتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، فلم کی یہ ابتدائی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام میں ان کی شخصیت کے بارے میں تجسس اور دلچسپی اب بھی برقرار ہے۔
ذرائع کے مطابق، ایمیزون نے اس فلم کے حقوق حاصل کرنے کے لیے تقریباً 40 ملین ڈالر کی بھاری رقم ادا کی تھی اور اس کی تشہیر و مارکیٹنگ پر مزید 35 ملین ڈالر خرچ کیے ہیں۔ فلم کی اس شاندار اوپننگ نے 2024 میں ریلیز ہونے والی دیگر نمایاں دستاویزی فلموں، جیسے کہ "ایم آئی ریسسٹ؟” (Am I Racist?) کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
میلانیا ٹرمپ کی اس دستاویزی فلم نے نہ صرف تجارتی اعتبار سے کامیابی حاصل کی ہے بلکہ فلمی ناقدین میں بھی بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ فلم کے ابتدائی اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آنے والے ہفتوں میں بھی یہ فلم باکس آفس پر اپنی جگہ بنائے رکھنے میں کامیاب رہے گی۔

