عالمی دوا ساز کمپنی آسٹرا زینیکا نے ایک اہم حکمت عملی کے تحت نیویارک اسٹاک ایکسچینج (NYSE) میں اپنا اندراج کرانے کا اعلان کیا ہے، جبکہ اس سے چند روز قبل ہی کمپنی نے چین میں کثیر ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے بڑے منصوبوں کا بھی اعلان کیا تھا۔
یہ اقدام بڑی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے جہاں وہ ایک طرف بڑی امریکی مارکیٹ تک رسائی چاہتی ہیں اور دوسری طرف چین کی پرکشش جدت اور اختراعی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں۔ بڑی دوا ساز کمپنیاں اب عالمی مارکیٹ میں توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جہاں مغربی سرمائے کی اہمیت برقرار ہے مگر مستقبل کی جدت کا مرکز تیزی سے مشرق کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔
امریکی مارکیٹ میں اندراج
آسٹرا زینیکا پیر کے روز نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں باضابطہ طور پر اپنی فہرست سازی مکمل کر لے گی۔ یہ اقدام کمپنی کو دنیا کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ منافع بخش مالیاتی مرکز تک براہ راست رسائی فراہم کرے گا۔ امریکہ نہ صرف سرمایہ کاری کے لیے ایک بڑا مرکز ہے بلکہ یہ دواؤں کی فروخت اور تحقیق و ترقی (R&D) کے لیے بھی دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ سمجھا جاتا ہے۔ نیویارک میں اندراج سے کمپنی کو امریکی سرمایہ کاروں سے مزید فنڈز اکٹھا کرنے اور عالمی سطح پر اپنے مالیاتی پروفائل کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
چین کی طرف بڑھتا رجحان
نیویارک میں فہرست سازی کے اعلان سے محض چند دن قبل، آسٹرا زینیکا نے چین میں کئی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے بڑے وعدے کیے تھے۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ وہ جدت اور تحقیق کے لیے تیزی سے مشرق کی طرف دیکھ رہی ہے۔ چین اب صرف ایک بڑی صارف مارکیٹ نہیں رہا بلکہ یہ بائیو ٹیکنالوجی اور دوا سازی کی جدت کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔
بڑی دوا ساز کمپنیاں چینی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ مراعات اور تیزی سے ترقی کرتی ہوئی مقامی اختراعی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی خواہاں ہیں۔ چین میں سرمایہ کاری کا مقصد نئی ادویات کی تحقیق، پیداوار اور مقامی مارکیٹ میں ان کی تیزی سے منظوری کو یقینی بنانا ہے۔
عالمی فارما انڈسٹری میں توازن
ماہرین کے مطابق، آسٹرا زینیکا کا یہ دوہرا اقدام عالمی فارماسیوٹیکل انڈسٹری میں ایک نئے توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔ بڑی کمپنیاں اب بھی مغربی مارکیٹوں، خاص طور پر امریکہ، کو اپنی آمدنی کا بنیادی ذریعہ سمجھتی ہیں، لیکن وہ مستقبل کی جدت اور ترقی کے لیے چین میں اپنی موجودگی کو مضبوط بنا رہی ہیں۔ یہ حکمت عملی انہیں دونوں بڑے عالمی اقتصادی بلاکس کے فوائد کو بیک وقت حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے، تاکہ وہ عالمی سطح پر اپنی مسابقتی پوزیشن کو برقرار رکھ سکیں۔

