ایک اور جفری ایپسٹین کی متاثرہ نے اپنے وکیل کے ذریعے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اسے 2010 میں برطانیہ بھیج کر پرنس اینڈریو مونٹ بٹن‑ونڈسر کے ساتھ جنسی تعلقات کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس عورت کے مطابق، اس وقت اس کی عمر بیس کے اوائل میں تھی اور ملاقات ایپسٹین کے زیرِ انتظام رائل لاج، ساؤتھ ڈاؤن میں ہوئی۔
دعویٰ کی تفصیلات
متاثرہ نے بتایا کہ جفری ایپسٹین نے اسے برطانیہ کے رائل لاج کی طرف روانہ کیا جہاں اس نے پرنس اینڈریو کے ساتھ ایک نجی ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران اس پر جنسی استحصال کا الزام لگایا گیا۔ اس عورت کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ ایپسٹین کے دیگر معاونین نے بھی رابطے میں رہتے ہوئے اس کی رہنمائی کی۔
قانونی نمائندے کا بیان
فلوریڈا کے وکیل، جو ویرجینیا گیفر کے قانونی نمائندے کے طور پر معروف ہیں، نے اس نئی شکایت کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ دعویٰ ایپسٹین کے دیگر متاثرین کے بیانات کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ وکیل نے مزید کہا کہ ان کے موکل نے اس معاملے کی مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پچھلے واقعات اور ردعمل
پہلے بھی پرنس اینڈریو پر ایپسٹین کے ساتھ جنسی تعلقات کے الزامات عائد کیے جا چکے ہیں، جنہیں انہوں نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے سے بے خبر ہیں۔ اس کے علاوہ، ایپسٹین کے متعدد متاثرین نے مختلف ممالک میں اس کے زیرِ اثر ہونے کے واقعات کا انکشاف کیا ہے۔ نئی شکایت کے بعد برطانوی حکام اور امریکی قانون نافذ کرنے والے ادارے اس معاملے کی مزید جانچ پڑتال کا وعدہ کر چکے ہیں۔

