بٹ کوائن اور ایتھریم نے عالمی کموڈیٹی مارکیٹ میں شدید اتار‑چڑھاؤ کے بعد نمایاں کمی دکھائی۔ ہفتے کے اختتام پر بٹ کوائن کی قیمت 78,000 ڈالر کے قریب آ کر دو ماہ کے نچلے درجے پر پہنچ گئی، جبکہ ایتھریم کی قیمت بھی اسی عرصے میں نمایاں طور پر کم ہوئی۔
کمی کی بنیادی وجوہات
کمی کا بڑا حصہ سونے اور چاندی کی شدید گراوٹ سے منسلک ہے۔ سونے کی قیمت میں تقریباً 12 فیصد کمی آئی جبکہ چاندی کی قیمت میں 30 فیصد سے زائد گراوٹ دیکھی گئی۔ یہ منفی رجحان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فیڈرل ریزرو کے نئے چیئر کی نامزدگی کے بعد سامنے آیا۔ ٹرمپ نے کیون وارش کو فیڈ کے چیئر کے امیدوار کے طور پر پیش کیا، جس کے نتیجے میں امریکی ڈالر میں تیزی آئی اور سرمایہ کاروں نے محفوظ اثاثوں کی جانب رجوع کیا۔
مارکیٹ کا ردعمل
وارش کی نامزدگی نے امریکی ڈالر کو مضبوط کیا، جس سے عالمی مالیاتی مارکیٹ میں نقدی کی فراہمی کم ہوئی۔ سرمایہ کاروں نے توقع کی کہ نیا فیڈ چیئر مالیاتی پالیسیوں کو سخت کرے گا، جس سے خطرناک اثاثوں جیسے کہ کریپٹو کرنسیوں کی طلب میں کمی آئی۔ اس کے ساتھ ہی سونے اور چاندی کی قیمتوں میں گراوٹ نے خطرے کے جذبات کو مزید بڑھا دیا۔
کریپٹو کرنسیوں پر اثر
بٹ کوائن کی قیمت جمعہ کے روز دو ماہ کے نچلے درجے پر پہنچ کر 78,000 ڈالر سے نیچے آ گئی۔ ایتھریم کی قیمت بھی اسی دن نمایاں کمی کے ساتھ 1,600 ڈالر کے قریب آ گئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر فیڈ کی پالیسی سخت ہونے کی توقع برقرار رہی تو کریپٹو مارکیٹ میں مزید نیچے کی سمت کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
آگے کا منظرنامہ
ماہرین کا مشورہ ہے کہ سرمایہ کاروں کو موجودہ غیر یقینی صورتحال میں محتاط رہنا چاہیے اور اپنی سرمایہ کاری کی حکمت عملی کو دوبارہ جائزہ لینا چاہیے۔ اگر فیڈ کے نئے چیئر کی پالیسی سختی کی جانب مائل رہی تو بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں کی قیمتوں میں مزید کمی کا خطرہ موجود ہے۔ اس کے برعکس، اگر مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتیں مستحکم ہو جائیں تو کریپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں بحالی کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

