امریکی محکمہ انصاف نے جیفری ایپسٹائن سے متعلق لاکھوں صفحات پر مشتمل دستاویزات کا ایک بڑا حصہ جاری کر دیا ہے، جن میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام سینکڑوں بار اور ‘دی ڈیوک’ نامی شخص کے ساتھ ایپسٹائن کے електрон خطوط شامل ہیں۔ یہ دستاویزات طویل انتظار کے بعد منظر عام پر آئی ہیں۔
دستاویزات کی تفصیلات
جمعہ کے روز جاری کی گئی ان دستاویزات میں 30 لاکھ سے زائد صفحات، 2000 سے زائد ویڈیوز اور 180,000 تصاویر شامل ہیں۔ یہ تمام مواد جیفری ایپسٹائن سے متعلق تحقیقات کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ ان فائلوں میں متعدد اہم شخصیات کے نام سامنے آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
خاص طور پر، ڈونلڈ ٹرمپ کا نام ان دستاویزات میں کئی بار دہرایا گیا ہے، جس سے ان کے ایپسٹائن کے معاملات میں ممکنہ تعلقات پر مزید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، ‘دی ڈیوک’ نامی ایک نامعلوم شخص کے ساتھ ایپسٹائن کے تبادلہ خیال کردہ ای میلز بھی خاصی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ ان ای میلز کے مندرجات سے ایپسٹائن کے نیٹ ورک اور اس کے سرگرمیوں کے بارے میں نئی معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔
محکمہ انصاف نے اس بڑے پیمانے پر مواد کے اجرا کو تحقیقات میں شفافیت لانے کے ایک اقدام کے طور پر پیش کیا ہے۔ تاہم، ان دستاویزات کے مکمل تجزیے کے بعد ہی ان کے حقیقی اثرات اور ان میں پوشیدہ رازوں کا انکشاف ہو سکے گا۔

