جمعہ کے روز سونے اور چاندی کی عالمی مارکیٹ میں شدید گراوٹ دیکھنے کو ملی۔ ہفتوں کے مسلسل اوپر جانے کے بعد، سونے کی اسپاٹ قیمت میں 12٪ اور چاندی کی اسپاٹ قیمت میں 30٪ کی زبردست کمی ہوئی۔ یہ گراوٹ سونے کے لیے سب سے خراب سنگل‑ڈے نقصان اور چاندی کے لیے 1980 کے بعد کا سب سے بڑا ایک دن کا نقصان ثابت ہوئی۔
قیمتوں کا اچانک زوال
ماہرین نے اس گراوٹ کی بنیادی وجہ کو امریکی فیڈرل ریزرو کے نئے سربراہ کے انتخاب سے منسلک کیا۔ ٹرمپ کی جانب سے فیڈ کے لیے نامزد امیدوار کی پیشکش کے بعد، مارکیٹ میں فیڈ کی خودمختاری کے حوالے سے موجود خدشات کم ہو گئے۔ اس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں نے محفوظ پناہ گاہوں سے نکل کر خطرے والے اثاثوں کی طرف رجوع کیا، جس سے سونے اور چاندی کی طلب میں نمایاں کمی آئی۔
فیڈ کے نئے امیدوار کا اثر
ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ امیدوار، جسے مارکیٹ کے تجزیہ کار "وارش” کے نام سے جانتے ہیں، نے فیڈ کی پالیسی کی سمت پر واضح اشارے دیے۔ اس کے انتخاب سے یہ توقع بڑھ گئی کہ فیڈ مستقبل میں زیادہ سخت مالیاتی پالیسی اپنائے گا، جس سے سود کی شرحوں میں اضافہ اور امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ متوقع ہے۔ اس صورتحال نے سونے اور چاندی جیسے غیر سودی سرمایہ کاری کے آلات کی کشش کم کر دی۔
مارکیٹ کے ردعمل اور مستقبل کے امکانات
اس دن کے بعد امریکی ٹریژری ییلڈز میں بھی واضح اضافہ ہوا، جس نے مزید سرمایہ کاروں کو سونے اور چاندی سے دور کر کے زیادہ منافع بخش بانڈز کی طرف راغب کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر فیڈ کی خودمختاری کے حوالے سے خدشات برقرار رہتے ہیں تو سونے اور چاندی کی قیمتیں مزید نیچے جا سکتی ہیں۔ تاہم، عالمی جیوپولیٹیکل تناؤ اور مہنگائی کے دباؤ کے پیش نظر، طویل مدت میں یہ قیمتی دھاتیں دوبارہ اپنی پوزیشن مستحکم کر سکتی ہیں۔

