انڈونیشیا کے حصص بازار میں حالیہ شدید مندی اور حصص کی مجموعی مالیت سے 84 ارب ڈالر کے صفائے کے بعد، انڈونیشین سٹاک ایکسچینج (IDX) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) ایمان رحمان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ استعفیٰ مارکیٹ میں اس وقت آیا جب ایک عالمی انڈیکس فراہم کنندہ نے ملک کی درجہ بندی میں ممکنہ کمی کا انتباہ جاری کیا، جس سے سرمایہ کاروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
مارکیٹ میں شدید ہلچل اور تنزلی کا انتباہ
مارکیٹ میں یہ شدید ہلچل منگل کے روز اس وقت شروع ہوئی جب عالمی انڈیکس فراہم کنندہ ایم ایس سی آئی (MSCI) نے ایک اعلان میں انڈونیشیا کو ‘ایمرجنگ مارکیٹ’ سے تنزلی دے کر ‘فرنٹئیر مارکیٹ’ کے درجے میں شامل کرنے کا امکان ظاہر کیا۔ ایم ایس سی آئی کا یہ انتباہ انڈونیشیا کے سرمایہ کاری کے ماحول پر سوالیہ نشان بن گیا، جس کے نتیجے میں حصص کی بڑے پیمانے پر فروخت شروع ہو گئی۔
شدید فروخت کے دباؤ کے باعث جکارتہ کمپوزٹ انڈیکس میں 7.35 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے مارکیٹ سے اربوں ڈالر کی مالیت ختم ہو گئی۔
سی ای او کا استعفیٰ اور حکومتی ردعمل
انڈونیشین سٹاک ایکسچینج کی انتظامیہ نے تصدیق کی کہ ایمان رحمان نے جمعہ کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے "حالیہ مارکیٹ کی صورتحال” کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے یہ قدم اٹھایا۔ ایمان رحمان نے ایک بیان میں کہا کہ وہ مارکیٹ میں اعتماد کی بحالی کے لیے انتظامی تبدیلی کو ضروری سمجھتے ہیں۔
مارکیٹ کی اس غیر معمولی صورتحال کے پیش نظر، انڈونیشیا کی حکومت نے فوری طور پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے اور مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر اصلاحات کا منصوبہ تیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی ایسے اقدامات کرے گی جو ایم ایس سی آئی کے درجہ بندی کے خدشات کو دور کر سکیں۔

