سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کو چین کے ساتھ کاروباری تعلقات قائم کرنے کے خلاف سخت انتباہ جاری کیا ہے، اور اسے ملک کے لیے ‘انتہائی خطرناک’ قرار دیا ہے۔ یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانوی حزب اختلاف کے رہنما کیر سٹارمر بیجنگ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش میں چین کے چار روزہ دورے پر ہیں۔
برطانیہ کے لیے ٹرمپ کا انتباہ
واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے، ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کی جانب سے چین کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کی کوششوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوالات کے جواب میں واضح طور پر کہا، "ان کے لیے ایسا کرنا بہت خطرناک ہے۔” ٹرمپ نے زور دیا کہ چین کے ساتھ وسیع پیمانے پر تجارتی اور کاروباری معاہدے کرنا برطانیہ کی قومی سلامتی اور اقتصادی مفادات کے لیے شدید خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
سابق صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب برطانیہ میں سیاسی قیادت چین کے ساتھ اپنے تعلقات کی نوعیت پر گہری بحث کر رہی ہے۔ برطانیہ کی حکومت اور حزب اختلاف دونوں ہی چین کے ساتھ سفارتی اور تجارتی روابط کو مکمل طور پر منقطع کیے بغیر ایک متوازن راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سٹارمر کا دورہ اور تعلقات کی بحالی
برطانوی لیبر پارٹی کے رہنما کیر سٹارمر کا یہ دورہ آٹھ سالوں میں کسی بھی بڑے برطانوی رہنما کا پہلا دورہ ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ برطانیہ چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو ‘ری سیٹ’ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی اور اقتصادی تعاون کے نئے راستے تلاش کرنا ہے۔
اس دورے کے دوران، چین نے برطانیہ کے شہریوں کے لیے ویزا فری سفر کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے، جسے تعلقات میں بہتری کی جانب ایک مثبت قدم سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم، ٹرمپ کے انتباہ نے ان کوششوں پر ایک نیا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
کینیڈا کی صورتحال بھی تشویشناک
ڈونلڈ ٹرمپ نے صرف برطانیہ کے چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات پر ہی نہیں بلکہ کینیڈا کی صورتحال پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ کاروبار کرنا کینیڈا کے لیے "میرے خیال میں اور بھی زیادہ خطرناک ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "کینیڈا کی کارکردگی اچھی نہیں ہے۔” ٹرمپ کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ وہ مغربی ممالک کی جانب سے بیجنگ کے ساتھ بڑھتے ہوئے اقتصادی انضمام کو امریکہ کے لیے وسیع تر جیو پولیٹیکل خطرہ سمجھتے ہیں۔

