برطانیہ اور چین اپنے دوطرفہ تعلقات کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جس کے تحت برطانوی وزیر اعظم سر کیر سٹارمر نے چین کے ساتھ ‘زیادہ نفیس’ تعلقات استوار کرنے کی امید ظاہر کی ہے۔ لندن اور بیجنگ کے درمیان تعلقات کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی یہ کوششیں دونوں ممالک کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
اعلیٰ سطح پر رابطے اور اقتصادی شراکتیں
چینی اعلامیہ کے مطابق، لندن بیجنگ کے ساتھ اعلیٰ سطح پر قریبی رابطے برقرار رکھے گا اور تجارتی و سرمایہ کاری کی شراکتوں کو مزید گہرا کرے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کا یہ عمل اقتصادی تعاون پر خصوصی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے تاکہ باہمی مفادات کو فروغ دیا جا سکے۔
وزیر اعظم کیر سٹارمر نے اپنے پہلے دورے کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ چین کے ساتھ "زیادہ نفیس تعلقات” قائم کرنا "انتہائی اہم” ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کو بحال کرنا اور طویل مدتی تعاون کی بنیاد رکھنا ہے۔
وہسکی ٹیرف میں کمی اور ویزا فری سفر کا امکان
وزیر اعظم سٹارمر نے بتایا کہ حالیہ بات چیت میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ مذاکرات کے نتیجے میں وہسکی پر عائد محصولات (ٹیرف) میں کمی لانے کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ، برطانوی سیاحوں کے لیے چین کا ویزا فری سفر ممکن بنانے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا ہے۔ اگر یہ تجویز عملی شکل اختیار کرتی ہے تو اس سے دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر رابطوں اور سیاحت کو فروغ ملے گا۔ برطانوی وزیر اعظم نے زور دیا کہ ان اقدامات سے دوطرفہ تعلقات میں مثبت تبدیلی آئے گی اور باہمی تعاون کے نئے دروازے کھلیں گے۔

