ٹینس کے عالمی نمبر ایک کھلاڑی نوواک جوکووچ آسٹریلین اوپن کے سیمی فائنل میں پہنچ چکے ہیں، لیکن ان کا یہ سفر غیر معمولی طور پر آسان رہا ہے۔ انہوں نے اب تک صرف 11 سیٹس کھیلے ہیں، جس کی بڑی وجہ حریف کھلاڑیوں کا دستبردار ہونا یا آسان میچز ملنا ہے۔ اس صورتحال نے جوکووچ کو اس بات پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا یہ ‘تازہ دم’ حالت ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی یا یہ کم میچ پریکٹس کی وجہ سے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
کم سیٹس کھیلنے کا فائدہ یا نقصان؟
سربیا سے تعلق رکھنے والے اس سٹار کھلاڑی نے اعتراف کیا ہے کہ وہ مجموعی طور پر جسمانی طور پر خود کو بہتر محسوس کر رہے ہیں۔ ان کے بقول، اتنے کم سیٹس کھیلنے کی وجہ سے انہیں بھرپور آرام ملا ہے، جس کے لیے وہ قسمت کے شکر گزار ہیں۔ تاہم، انہیں یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ اہم اور حتمی مراحل میں کم میچ پریکٹس ان کی کارکردگی میں رکاوٹ نہ بن جائے۔
جوکووچ نے وضاحت کی کہ ان کی سب سے بڑی تشویش پاؤں پر پڑنے والا ایک چھالا (blister) ہے، جو کہ معمولی نوعیت کا ہے۔ اس معمولی مسئلے کے علاوہ وہ مکمل طور پر فٹ ہیں۔ ان کی موجودہ جسمانی حالت ان کے ماضی کے ٹورنامنٹس سے نمایاں طور پر مختلف ہے، جہاں انہیں سیمی فائنل تک پہنچنے کے لیے سخت اور طویل میچز کھیلنے پڑتے تھے۔
جوکووچ نے کہا کہ وہ سیمی فائنل کے لیے پوری طرح تیار ہیں، لیکن وہ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ آیا یہ غیر متوقع آرام حتمی مراحل میں ان کی حکمت عملی کو تقویت دیتا ہے یا انہیں میچ کی شدت سے ہم آہنگ ہونے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قسمت نے انہیں یہاں تک پہنچنے میں مدد دی ہے، لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ قسمت انہیں کہاں چھوڑتی ہے۔

