ہفتہ, مارچ 7, 2026
الرئيسيةٹریمپ نے ٹام ہومن کو منیاپولس میں سرحدی امور کے سر براہ...

ٹریمپ نے ٹام ہومن کو منیاپولس میں سرحدی امور کے سر براہ کے طور پر تعینات کیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منیاپولس میں سرحدی نفاذ کے امور کی نگرانی کے لیے اپنے معروف "بارڈر تسار” ٹام ہومن کو بھیج دیا ہے۔ یہ اقدام ہفتہ کے اختتام پر منیاپولس کی آئی سی یو نرس الیکس پریٹی کے قاتلِ وفاقی ایجنٹ کے قتل کے بعد لیا گیا۔

ٹام ہومن کون ہیں؟

ٹام ہومن امریکی سرحدی سیکیورٹی ایجنسی (CBP) کے سابق معاون ڈائریکٹر اور صدر ٹرمپ کے زیرِ اہتمام "بارڈر تسار” کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ ان کا نام اکثر اُن سخت امیگریشن پالیسیوں سے منسلک رہتا ہے جن کے تحت غیر قانونی تارکین وطن کی گرفتاری اور خاندانوں کی الگ‑الگ کرائی جاتی تھی۔ ہومن نے 2015 میں اوباما انتظامیہ کے تحت پریزیڈنشل رینک ایوارڈ حاصل کیا تھا، لیکن اس ایوارڈ کے حصول پر بھی ان کی سخت امیگریشن حکمت عملیوں پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔

منیاپولس میں تعیناتی کی وجوہات

منگل کو منیاپولس کے ایک ہسپتال میں آئی سی یو نرس الیکس پریٹی پر ایک وفاقی ایجنٹ نے فائرنگ کی، جس سے اس کی جان جا گئی۔ اس واقعے کے بعد صدر ٹرمپ نے فوری طور پر ہومن کو منیاپولس بھیج کر "سرحدی نفاذ کے زمینی اقدامات” کی نگرانی کا حکم دیا۔ ٹرمپ نے اس اقدام کو "قانون کی حکمرانی اور سرحد کی حفاظت کے لیے ضروری” قرار دیا۔

امریکی سرحدی پالیسی پر ممکنہ اثرات

ہومن کی منیاپولس میں موجودگی سے توقع کی جاتی ہے کہ وفاقی امیگریشن ایجنسیوں کی سرگرمیاں بڑھ جائیں گی اور غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیوں میں سختی آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ، انسانی حقوق کے ماہرین اور مقامی کمیونٹی تنظیمیں اس اقدام پر شدید تنقید کا اظہار کر رہی ہیں، کیونکہ ہومن کے زیرِ نگرانی پہلے کئی خاندانوں کی الگ‑الگ کرائی گئی تھی۔

حکومت کی جانب سے ردعمل

سفارت خانہ نے کہا کہ ٹام ہومن کی تعیناتی "قانونی اور انتظامی امور کی مؤثر نگرانی کے لیے کی گئی ہے” اور اس سے "امریکی سرحد کی سیکیورٹی کو تقویت ملے گی”۔ تاہم، متعدد امریکی سینیٹ ممبران نے اس اقدام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس سے مقامی کمیونٹی کے ساتھ تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں