جمعہ, فروری 13, 2026
الرئيسيةUncategorizedکرپٹو جرائم: پرانے حربوں سے 70 کروڑ ڈالر کی لوٹ مار

کرپٹو جرائم: پرانے حربوں سے 70 کروڑ ڈالر کی لوٹ مار

دنیا بھر میں کرپٹو کرنسی کی دولت میں اضافے کے ساتھ ساتھ، سائبر مجرموں نے بھی اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ یہ مجرم جدید ہیکنگ کے ساتھ ساتھ پرانے اور روایتی دھوکے باز حربوں کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو کروڑوں ڈالر کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، کرپٹو جرائم پیشہ افراد نے صرف ایک مخصوص عرصے میں تقریباً 70 کروڑ امریکی ڈالر سے زائد کی رقم چرالی ہے۔

جدید ٹیکنالوجی اور روایتی دھوکہ دہی کا امتزاج

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان جرائم میں صرف پیچیدہ ہیکنگ تکنیک ہی شامل نہیں ہیں، بلکہ اکثر اوقات سادہ اور پرانے طرز کے دھوکے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان میں فشنگ حملے، جعلی سرمایہ کاری کے منصوبے، اور سوشل انجینئرنگ کے ذریعے متاثرین کو گمراہ کرنا شامل ہے۔ مجرم اکثر اوقات متاثرین کے اعتماد کا غلط استعمال کرتے ہوئے انہیں ایسے جال میں پھنساتے ہیں جہاں سے نکلنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

تشویشناک رجحان اور نقصانات

بی بی سی کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، کرپٹو کرنسی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ان جرائم پیشہ افراد کے لیے ایک نیا میدان کھول دیا ہے۔ یہ مجرم نہ صرف آن لائن دھوکہ دہی کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات حقیقی دنیا میں تشدد اور دھمکیوں کا بھی سہارا لیتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات سے متاثرین کو نہ صرف مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے بلکہ انہیں ذہنی اذیت اور خوف کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اربوں ڈالر کی لوٹ مار اور تحقیقات

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرپٹو جرائم پیشہ افراد نے 71 کروڑ 30 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد کی رقم چرانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ان جرائم کی تحقیقات کے دوران، حکام نے چوری شدہ فنڈز میں سے 4 کروڑ ڈالر کو منجمد کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے، اور ان افراد کو انعام سے بھی نوازا گیا جنہوں نے اس میں مدد کی۔ یہ واقعات کرپٹو کرنسی کے شعبے میں حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں