برطانیہ کے وزیراعظم نے تصدیق کی ہے کہ چین نے چھ موجودہ برطانوی پارلیمنٹیرینز اور ارکانِ ایوانِ بالا (پیئرز) پر عائد سفری پابندیوں سمیت دیگر قدغنیں ختم کر دی ہیں۔
حزب اختلاف کے رہنما کیر سٹارمر نے بھی اس اقدام کی فوری تصدیق کی اور بتایا کہ ان ارکان پر عائد سفری پابندی اور دیگر پابندیاں اب لاگو نہیں ہوں گی۔ یہ پابندیاں چین کی جانب سے انسانی حقوق کے معاملات پر تنقید کرنے کے جواب میں لگائی گئی تھیں۔
سٹارمر کے دورے کا تناظر
یہ پیش رفت کیر سٹارمر کے حالیہ دورہ چین کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانا تھا۔ سٹارمر نے واضح کیا کہ یہ پابندیاں فوری طور پر ہٹا دی گئی ہیں اور اب چھ پارلیمنٹیرینز پر کسی قسم کی قدغن باقی نہیں ہے۔
تاہم، یہ بات ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا ایک سابق رکن پارلیمنٹ، ایک ماہر تعلیم اور ایک بیرسٹر پر عائد پابندیاں برقرار ہیں یا انہیں بھی ختم کر دیا گیا ہے۔
چین پر تنقید کرنے والے گروپ کا ردعمل
دوسری جانب، چین پر تنقید کرنے والے اس گروپ نے، جو ان پابندیوں سے متاثر ہوا تھا، اس پیش رفت پر محتاط ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
متاثرہ ارکان کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے معاہدے کو سختی سے مسترد کر دیں گے جو ان کے موقف یا چین کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ان کی تنقید سے متصادم ہو، یا جس میں ان کی رضامندی شامل نہ ہو۔

