منگل, جنوری 27, 2026
الرئيسيةUncategorizedHEN Technologies کے بانی سنی سیتھی نے آگ بجھانے کی ٹیکنالوجی میں...

HEN Technologies کے بانی سنی سیتھی نے آگ بجھانے کی ٹیکنالوجی میں انقلاب برپا کیا، اب AI کے میدان میں نئی سوئمنگ پول تیار کر رہے ہیں

سنی سیتھی، HEN Technologies کے بانی اور سی ای او، نے روایتی فائر فائٹنگ کے طریقوں کو تبدیل کر کے ایک ایسی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے جس سے آگ کے دباؤ کی شرح میں 300 فیصد تک اضافہ اور پانی کے استعمال میں 67 فیصد کمی ممکن ہوئی ہے۔ اس نئی ایجادات کو وہ خود "زمین پر موجود مسل” کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

آگ بجھانے کے لیے جدید نوزل کی تخلیق

HEN Technologies کی تیار کردہ فائر نوزلیں مخصوص ڈیزائن اور ہائی‑پریشر میکینزم پر مبنی ہیں۔ کمپنی کے دعویٰ کے مطابق، یہ نوزلیں آگ کے پھیلاؤ کو تیز رفتار طریقے سے روک کر دباؤ کی کارکردگی کو تین گنا بڑھا دیتی ہیں، جبکہ پانی کے استعمال کو دو تہائی تک کم کر دیتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف آگ کے خطرے سے نمٹنے کا وقت کم ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی اثرات بھی کم ہوتے ہیں۔

صنعت میں نمایاں تبدیلی

آگ بجھانے کا شعبہ صدیوں سے تقریباً یکساں طریقوں پر قائم تھا۔ سیتھی کی نئی ٹیکنالوجی نے اس روایتی ڈھانچے کو چیلنج کرتے ہوئے فائر سروسز، صنعتی سہولیات اور شہری ایمرجنسی ردعمل کے نظام میں نمایاں بہتری لائی ہے۔ متعدد بین الاقوامی فائر ڈپارٹمنٹس نے اس نوزل کی کارکردگی کی تصدیق کی ہے اور اسے اپنی فلیٹ میں شامل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

AI کے ذریعے نئی سرمایہ کاری کی راہیں

آگ بجھانے کی کامیابی کے بعد سنی سیتھی نے اپنی توجہ مصنوعی ذہانت کی طرف موڑ دی ہے۔ وہ AI‑پر مبنی پلیٹ فارم تیار کر رہے ہیں جس کے ذریعے فائر سسٹمز کی پیشگی پیشگوئی، خطرے کی تشخیص اور خودکار ردعمل کے الگورتھم تیار کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کو "AI گولڈ مائن” کا لقب دیا گیا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے نہ صرف حفاظتی اقدامات کو بہتر بنایا جائے گا بلکہ اس سے نئی تجارتی مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

مستقبل کے لیے حکمت عملی

سنی سیتھی کے مطابق، آگ بجھانے کی ٹیکنالوجی اور AI کے امتزاج سے ایک جامع ایمرجنسی مینجمنٹ سسٹم تیار کیا جائے گا۔ اس سسٹم میں ریئل‑ٹائم ڈیٹا، ڈرون‑بیسڈ مانیٹرنگ اور مشین لرننگ کے ذریعے خطرے کی پیشگی شناخت شامل ہوگی۔ کمپنی اس وقت عالمی سرمایہ کاروں سے فنڈنگ کی تلاش میں ہے تاکہ اس منصوبے کو جلد از جلد عملی شکل دی جا سکے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں