امریکن چپ ساز کمپنی ایڈوانسڈ مائیکرو ڈیوائسز (AMD) کے حصص میں بدھ کے روز 8 فیصد تک کمی آئی جب کمپنی نے پہلی سہ ماہی کی آمدنی کی پیش گوئی سرمایہ کاروں کی امیدوں پر پوری نہیں اتری۔
پیش گوئی اور اس کے اثرات
AI (مصنوعی ذہانت) کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے پیش نظر تجزیہ کاروں نے AMD سے مضبوط آمدنی کی توقع کی تھی۔ تاہم، کمپنی کی جانب سے جاری کردہ پیش گوئی نے اس امید کو پورا نہیں کیا، جس کی وجہ سے اسٹاک کی قیمت میں فوری طور پر کمی دیکھی گئی۔
تحلیل کاروں کی درجہ بندی
موز انویسٹمنٹ بینک نے AMD کے اسٹاک کو "اوور ویٹ” کی درجہ بندی دی ہوئی ہے اور اس کا ہدفی قیمت $190 مقرر کی ہے۔ اس کے برعکس، برن سٹین نے اسٹاک کی درجہ بندی "بائی” سے کم کر کے "ریڈیوس” کر دی، جس کی وجہ کمزور AI چپ کی آمدنی کی پیش گوئی اور مستقبل کے اخراجات کے بارے میں خدشات ہیں۔
مارکیٹ کا ردعمل
HSBC کی درجہ بندی میں تبدیلی کے بعد AMD کے حصص میں 4 فیصد سے زائد کمی آئی۔ مجموعی طور پر، کمپنی کے اسٹاک کی قیمت میں 8 فیصد تک کمی آئی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ سرمایہ کاروں نے پیش گوئی کے نتیجے میں شدید ردعمل دکھایا۔
آگے کا منظرنامہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر AMD اپنی AI چپ کی پیداوار اور آمدنی کے تخمینوں کو بہتر بنائے تو مستقبل میں اسٹاک کی قیمت میں استحکام آ سکتا ہے۔ تاہم، فی الحال مارکیٹ کی توقعات اور موجودہ پیش گوئی کے درمیان فرق واضح طور پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر رہا ہے۔

