امریکہ میں وفاقی سطح پر ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں امریکی محکمہ انصاف نے مینیسوٹا ریاست کے دو اہم ڈیموکریٹک رہنماؤں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ان رہنماؤں پر وفاقی امیگریشن ایجنسی (ICE) کے آپریشنز میں رکاوٹ ڈالنے اور مداخلت کرنے کے سنگین الزامات ہیں۔
جن رہنماؤں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں ان میں مینیسوٹا کے گورنر ٹم والز اور منی ایپلس کے میئر جیکب فرے شامل ہیں۔ یہ تحقیقات وفاقی اور ریاستی حکام کے درمیان اختیارات کی کشمکش میں ایک نئی اور بڑی شدت کی نشاندہی کرتی ہیں۔
حالیہ تناؤ اور پس منظر
یہ تحقیقات ایک ایسے وقت میں شروع کی گئی ہیں جب منی ایپلس شہر میں گزشتہ ہفتے ایک خاتون کی ہلاکت کے حوالے سے تازہ تفصیلات سامنے آئی ہیں، جسے ایک ICE ایجنٹ نے گولی مار دی تھی۔ اس واقعے کے بعد سے مقامی اور وفاقی حکام کے درمیان تناؤ میں شدید اضافہ ہوا ہے۔
وفاقی پراسیکیوٹرز اب یہ جانچ کر رہے ہیں کہ آیا گورنر والز اور میئر فرے نے دانستہ طور پر وفاقی امیگریشن ایجنٹوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی سے روکنے کی کوشش کی تھی، جس کے نتیجے میں وفاقی امیگریشن آپریشنز میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ یہ الزامات وفاقی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔
مینیسوٹا کے رہنماؤں کا سخت ردعمل
مینیسوٹا کے رہنماؤں نے امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے کی جانے والی اس کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔ گورنر ٹم والز نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے "نظام انصاف کو سیاسی مقاصد کے لیے ہتھیار بنانا” ایک انتہائی افسوسناک عمل ہے۔
گورنر والز نے مزید کہا کہ یہ تحقیقات دراصل ICE کے گرد پیدا ہونے والے حالیہ تناؤ اور ان کے آپریشنز پر سوالات اٹھانے والے مقامی رہنماؤں کو ہدف بنانے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی رہنماؤں کو وفاقی امیگریشن ایجنسی کے حالیہ اقدامات پر سوال اٹھانے کی پاداش میں نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کہ جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ یہ معاملہ وفاقی اور ریاستی حکام کے درمیان اختیارات کی کشمکش کو مزید بڑھا رہا ہے اور ملک میں امیگریشن پالیسیوں پر جاری وسیع تر بحث کا حصہ بن گیا ہے۔

