امریکی وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم ٹونی بلیر اور امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کو غزہ کی "بانی ایگزیکٹو بورڈ” کے اراکین کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ اس بورڈ کا مقصد فلسطینی خطے میں پائیدار امن کے لیے بین الاقوامی سطح پر ہم آہنگ حکمت عملی تیار کرنا ہے۔
بورڈ کے دیگر اراکین
بورڈ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی Envoy سٹیو وٹکوف، سابق امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ جین کارنی، اور امریکی سرمایہ کار جیسن کشنر بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکن فدان، قطری سفیر علی ال تھوادی اور دیگر علاقائی ماہرین کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
بورڈ کی تشکیل اور مقاصد
وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق، "بانی ایگزیکٹو بورڈ” کی تشکیل غزہ کی موجودہ بحران کے حل کے لیے ایک جامع اور مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔ اس بورڈ کے اراکین مختلف جغرافیائی اور سیاسی پس منظر کے حامل ہیں تاکہ مختلف نقطۂ نظر کو مدنظر رکھتے ہوئے مؤثر سفارتی اور معاشی اقدامات تجویز کیے جا سکیں۔
بین الاقوامی ردعمل
اس اقدام پر بین الاقوامی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ کچھ ممالک نے اس کو خطے میں امن کی بحالی کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا، جبکہ دیگر نے اس کی عملی قابلیت اور حقیقی اثراندازی پر سوال اٹھائے۔ تاہم، امریکی انتظامیہ نے اس بات پر زور دیا کہ بورڈ کے ذریعے عالمی برادری کی مشترکہ کوششیں غزہ کے عوام کے لیے بہتر مستقبل کی ضمانت بنیں گی۔
آئندہ اجلاس
بورڈ کے پہلے اجلاس کا انعقاد مصر کے شہر شرم الشیخ میں 13 اکتوبر 2025 کو متوقع ہے۔ اس اجلاس میں ابتدائی حکمت عملی پر تبادلہ خیال اور عملی اقدامات کی ترجیحات طے کی جائیں گی۔

